تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 97
وَ سَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ یعنی کفار جو تدابیر کرتے ہیں ان کو تو ہم جانتے ہیں مگر ان کے برخلاف جو تدابیر ہم اختیار کررہے ہیں ان کا ان کفار کو کوئی علم نہیں ہوسکتا۔اس لئے جب کفار کو نقصان پہنچ جائے گا تبھی انہیں معلوم ہوگا کہ انجام کس کے ہاتھ میں ہے۔یہاں س زور دینے کے لئے آیا ہے یعنی کفار ضرور جان لیں گے کہ انجام کس کا اچھا ہے؟ اور اس کے معنوں میں قریب کے زمانہ پر بھی دلالت ہوتی ہے اور جاننے کے ایک معنے تو یہ ہیں کہ بالضرور انجام مسلمانوں کا ہی اچھا ہوگا۔دوسرے اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ بڑے بڑے کفار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کو دیکھ کر مریں گے۔وَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ اور جن لوگوں نے (تیرا) انکار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ تو( خدا کا) بھیجا ہوا نہیں ہے تو (انہیں) کہہ (کہ) اللہ( تعالیٰ) شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِؒ۰۰۴۴ میرے درمیان اور تمہارے درمیان کافی گواہ ہے اور( اسی طرح پر) وہ( شخص بھی گواہ ہے) جس کے پاس اس (مقدس) کتاب کا علم (آچکا) ہے۔تفسیر۔نبی کے مخالفین کی دماغی خرابی کی یہ علامت ہے کہ وہ ہر دلیل کو سن کر انکار کرتے ہیں اور واضح سے واضح برہان پر شک پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دلیل بجائے خود نبی کے سچا ہونے کی علامت ہوتی ہے۔کیونکہ جب کسی قوم کے علماء کی یہ حالت ہو کہ وہ واضح اور ظاہر بات کو نہ سمجھ سکیں تو عوام کی حالت لازماً قابلِ رحم ہوگی اور اگر وہ وقت نبی کی آمد کا نہ ہو تو اور کون سا وقت اس کی بعثت کے مناسب ہوسکتا ہے؟ اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ ان سب دلائل کو سن کر بھی دشمن یہی کہے گا کہ خواہ کچھ کہو میں تو نہ مانوں گا۔اور یہی کہوں گا کہ تو رسول نہیں ہے مگر تو اس سے چڑیو نہیں۔تو یہی جواب دیجئو کہ میری شہادت خدا تعالیٰ دے رہا ہے۔تو مجھے انکار کی کیا پرواہ ہے؟ اسی طرح جو لوگ کتب سماویہ کا صحیح علم رکھتے ہیں وہ میرے شاہد ہیں۔پس ان شہادتوں کی موجودگی میں تمہارے انکار کی کیا قدر ہے؟ یہی دو شہادتیں نبیوں کو فتح دیتی ہیں۔یعنی تازہ آسمانی شہادت اور پہلے انبیاء کی پیشگوئیاں۔ان دو گواہوں