تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 96

حساب لینے پر آتا ہے تو فوراً لے لیتا ہے اور اس کے حکم میں کوئی روک نہیں بن سکتا۔وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا١ؕ يَعْلَمُ اور جو( لوگ) ان سے پہلے تھے انہوں نے (بھی انبیاء کے خلاف اسی طرح مخالفانہ) تدبیریں کی تھیں( مگر ان کی مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى کوئی پیش نہ گئی) پس تدبیر کرنا تو کلی طور پر اللہ (تعالیٰ) ہی کے اختیار میں ہے ہر شخص جو کچھ (بھی) کرتا ہے وہ (یعنے الدَّارِ۰۰۴۳ اللہ) اسے جانتا ہے اوران کافروں کو ضرور (اور جلد) معلوم ہو جائے گا کہ اس( آنے والے) گھر کا (اچھا )انجام کس کے لئے (مقدر) ہے۔حلّ لُغَات۔مَکَرَہٗ کے معنے ہیں خَدَعَہٗ۔اس کو دھوکا دیا۔اللہُ فُلَانًا۔جَازَاہُ عَلَی الْمَکْرِ۔جب اللہ تعالیٰ کے لئے مَکَرَ کا لفظ آئے تو اس کے معنے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر کا بدلہ دیا۔قِیْلَ الْمَکْرُ صَرْفُ الْاِنْسَانِ عَنْ مَقْصَدِہٖ بِحِیْلَۃٍ۔بعض نے کہا کہ کسی کو اس کے قصد سے کسی حیلہ کے ذریعہ سے پھیرنے کا نام مکر ہے۔وَھُوَ نَوْعَانِ مَحْمُوْدٌ یُقْصَدُ فِیْہِ الْخَیْرُ وَمَذْمُوْمٌ یُقْصَدُ فِیْہِ الشّر۔اور مکر اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی۔(اقرب) تَکْسِبُ۔کَسَبَ میں سے واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور کَسَبَ الشَّیْءَ کے معنے ہیں جَمَعَہٗ اس کو جمع کیا۔اور جب کَسَبَ مَالًا وَعِلْمًا کہا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ طَلَبَہٗ وَرَبِـحَہٗ۔یعنی اس نے مال و علم حاصل کرنے کی کوشش کی اور کامیاب ہو گیا۔وَالْاِثْمَ تَحَمَّلَہٗ اور جب کَسَبَ کا مفعول اَلاِْثم ہو تو ا س کے معنے ہوں گے تَحَمَّلَہٗ۔گناہ کا مرتکب ہوا۔ا ور کَسَبَ لِاَھْلِہٖ کے معنے ہیں طَلَبَ الْمَعِیْشَۃَ اپنے اہل و عیال کے لئے روزی کو حاصل کیا۔(اقرب) تفسیر۔يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ۔تمہاری تدبیر کس طرح کارگر ہوسکتی ہے جبکہ وہ تمہاری تمام تدابیر کو جانتا ہے اس لئے وہ ان کو توڑ ڈالے گا۔جیسے ایک آنکھوں والا کئی اندھوں کی سرکوبی کے لئے کافی ہوتا ہے۔