تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 91
مقام ہے۔بعض کو آواز دیتا ہے اور بعض کے پاس آپ آ کر انہیں ساتھ لے جاتا ہے۔یہ موہبت کا مقام ہے۔لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ١ؕ وَ لَا يَرْهَقُ وُجُوْهَهُمْ ان لوگوں کے لئے جنہوں نے نیکو کاری اختیار کی بہترین انجام ہو گا اور (اس پر ) مزید(انعامات بھی) اور ان کے قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّةٌ١ؕ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۲۷ چہروں پر نہ غبار چھائے گا اور نہ ذلت (کے آثار ہو ں گے) یہ (لوگ) جنت (میں رہنے) والے ہیں۔وہ اس میں رہا کریں گے۔حلّ لُغَات۔حُسْنٰی اَلْحُسْنٰی ضِدُّ السُّوْأَی بدی کے مقابل کی حالت۔اَلْعَاقِبَۃُ الْحَسَنَۃُ۔اچھا انجام اَلظَّفَرُ۔فتح۔اَلشَّحَاذَۃُ۔چستی اور ہوشیاری اَلنَّظْرُاِلَی اللہِ۔ا للہ تعالیٰ کی رؤیت۔(اقرب) رَھِق رَھِقَ یَرْھَقُ۔رَھْقًا سَفِہَ بیوقوفی کی۔رَکِبَ الشَّرَّ وَالظُّلْمَ برائی اور ظلم کا مرتکب ہوا۔غَشِیَ الْمَحَارِمَ ناجائز کام کئے۔کَذَبَ جھوٹ بولا۔عَجِلَ جلدی کی۔رَھِقَ فُلَانًا غَشِیَہٗ وَلَحِقَہٗ۔اس کے پاس گیا۔اور اس سے جاملا۔کہتے ہیں رَھِقَتِ الْکِلَابُ الصَّیْدَ کتوں نے شکار کو جالیا۔اور بعض کہتے ہیں دَنَامِنْہُ۔سَوَاءٌ اَخَذَہٗ اَمْ لَمْ یَأْخُذْہُ قریب ہو گیا۔خواہ اسے پکڑسکا ہو یا نہ۔(اقرب) اَلْقَتَرُ اَلْقَتَرُاَلْغَبَرَۃُ۔غبار (اقرب) اَلدُّخَانُ السَّاطِعُ مِنَ الشِّوَاءِ وَالْعُوْدِ وَنَحْوِھُمَا۔جس چیز کو بھونا جائے۔اس کا دھواں یا لکڑی کا یا ایسی ہی اور چیزوں کا دھواں۔(مفردات) اَلذِّلَّۃُ اَلذِّلَّۃُ ذَلَّ یَذِلُّ ذُلًّا۔ضِدُّ صَعُبَ یُقَالُ ذُلَّتْ لَہٗ الْقَوَا فِی سَہُلَتْ۔ذَلَّ مشکل یا سخت ہوا کے مخالف معنی دیتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں ذَلَّتْ لَہٗ الْقَوَا فِیْ یعنی قوافی اس کے ذہن میں آسانی سے آتے گئے (اقرب) ذلیل کو ذلیل اس لئے کہتے ہیں کہ ایسے شخص پر ظلم کرنا لوگوں کے لئے آسان ہوتا ہے۔تفسیر۔اَلْحُسْنٰی کے معنی لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا کے معنی یہ ہوئے کہ مومنوں کا انجام نیک ہوگا۔ان کو کامیابیاں ملیں گی۔اللہ تعالیٰ ان کے اندر چستی اور تیزی پیدا کر دےگا۔وَزِیَادَۃٌ یعنی خود خدا ان کو مل جائے گا۔اور وہ ہر قسم کی ذلت اور بدنامی سے محفوظ ہوں گے۔اور لوگوں سے دبیں گے نہیں یعنی یہ نہیں ہوگا کہ غلاموں کی طرح لوگوں کی نقل کریں بلکہ ان کو اللہ ایسا بنائے گا کہ لوگ ان کی نقل کریں گے۔