تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 85
اِحْتِمَالِ النَّقِیْضِ وَیُسْتَعْمَلُ فِی الْیَقِیْنِ وَ الشَّکٍّ (اقرب) یعنی ظن کے معنی عام طور پر غالب خیال کے ہوتے ہیں جس کے ساتھ اس کے خلاف کا احتمال بھی ہوتا ہے۔اور نیز یہ لفظ یقین کے اور شک کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔اَحَاطَ اَحَاطَ بِالْاَمْرِ اَحْدَقَ بِہٖ مِنْ جَوَانِبِہٖ اسے ہر طرف سے گھیر لیا۔اُحِیْطَ بِہٖ دَنَا ھَلَاکُہٗ اس کی ہلاکت کا وقت آ گیا۔(اقرب) اَلدِّیْنُ۔الْجَزَاءُ وَالمُکَافَاۃُ۔بدلہ اَلطَّاعَۃُ اطاعت۔اَلذُّلُّ۔ذلت ماتحتی۔اَلْحِسَابُ۔محاسبہ۔اَلْقَھْرُوَ الْغَلَبَۃُ وَالْاِسْتِعْلَاءُ۔کامل غلبہ۔وَالسُّلْطَانُ وَالْمُلْکُ وَالْحُکْمُ بادشاہت اور حکومت۔اَلتَّدْبِیْرُ تدبیر۔انتظام وَاِسْمٌ لِجَمِیْعِ مَایُعْبَدُبِہِ اللہُ۔تمام وہ طریق جن سے کوئی قوم خدا تعالیٰ کی عبادت کرتی ہے۔اَلْمِلَّۃُ مذہب و کیش۔یعنی شریعت۔اَلْوَرَعُ۔نیکی۔اَلْقَضَاءُ فیصلہ (اقرب) اس لفظ کے بعض معانی جو یہاں چسپاں نہ ہوتے تھے چھوڑ دیئے گئے ہیں۔تفسیر۔سمندر کے سفر کی تمثیل اس آیت میں بتایا ہے کہ سلسلہ سزا اور فضل کا برابر چلتا جاتا ہے۔اور دوسری طرف سے بھی شرارت کا جب آرام ہو اور ناقص رجوع کا جب سزا کا وقت ہو۔لیکن یہ لوگ کبھی خیال نہیں کرتے کہ جس طرح نرم ہوا ہی کسی وقت سخت ہوکر ہلاکت کا موجب ہوجاتی ہے کہیں یہ فضل ہی ہماری تباہی کی صورت اختیار نہ کرلے۔اور معترضین کو خشکی اور تری کے حالات کی طرف توجہ دلائی ہے۔اور پھر مثال کے طور پر سمندر کے سفر کو لیا ہے کیونکہ پانی کو الہام الٰہی سے مناسبت ہے اور بتایا ہے کہ سمندروں میں جس طرح نرم ہوا کسی وقت طوفان بن جاتی ہے اسی طرح انبیاء کے مخالفوں کو جو وقفہ ملتا ہے اسے عذاب کا دور ہوجانا نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ڈرنا چاہیے کہ یہ سکون کسی سخت طوفان کا پیش خیمہ نہ ہو۔اور بتایا ہے کہ جب ایسا عذاب آتا ہے تو تم لوگوں کے دل نرم ہو جاتے ہیں اور تم خیال کرتے ہو کہ تدبیر اللہ تعالیٰ ہی کی چلتی ہے اور آئندہ اصلاح کے بڑے بڑے اقرار کرتے ہو۔لیکن کیا یہ حالت ہمیشہ قائم رہتی ہے؟ اس کا جواب اگلی آیت میں دیا ہے۔ضمیر مخاطب کے بعدضمیر غائب لانے کی وجہ آیت کو شروع خطاب کی ضمیروں سے کیا تھا لیکن اس جملہ میں غائب کی ضمیر استعمال کی ہے۔اس میں ایک لطیف اشارہ ہے اور وہ یہ کہ پہلے حصہ میں چونکہ مومن و کافر سب شامل تھے سب ہی کے لئے خدا تعالیٰ نے خشکی و تری کے سفروں کے سامان پیدا کئے ہیں۔اس لئے وہاں تو تم کہہ کر