تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 81

وَ اِذَاۤ اَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ اِذَا اور جب لوگوں کو کسی تکلیف کے بعد جو انہیں پہنچی ہو ہم کسی (قدر اپنی) رحمت (کا مزہ) چکھاتے ہیں تو جھٹ ہمارے لَهُمْ مَّكْرٌ فِيْۤ اٰيَاتِنَا١ؕ قُلِ اللّٰهُ اَسْرَعُ مَكْرًا١ؕ اِنَّ رُسُلَنَا نشانوں کےمتعلق ان کی طرف سے کوئی( نہ کوئی مخالفانہ) تدبیر ہونے لگتی ہے۔تو( انہیں) کہہ (کہ اس کے مقابل پر ) يَكْتُبُوْنَ مَا تَمْكُرُوْنَ۰۰۲۲ اللہ کی تدبیر (اس سے کہیں) زیادہ جلد( کارگر) ہوا کرتی ہے۔(اور) تم جو تدابیر( بھی) کرتے ہو ہمارے فرستادے (اسے) لکھتے (رہتے )ہیں۔حلّ لُغات۔اَذَاقَ اَذَقْنَا اَذَاقَہٗ سے نکلا ہے جو آگے ذَاقَ سے نکلا ہے۔ذَاقَ الْمَکْرُوْہُ۔نَزَلَ بِہٖ فَقَاسَاہُ۔اس پر مصیبت نازل ہوئی۔اور اس نے سہی۔وَیُسْتَعْمَلُ الذَّوْقُ فِیْمَا یَحْمَدُوَیَکْرَہُ۔اور ذَوْقٌ کا لفظ اچھی اور بری دونوں باتوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے۔اَذَاقَہٗ کے معنی ہیں صَیَّرَہٗ یَذُوْقُ۔اسے چکھایا یا پہنچایا (اقرب) ضَرَّآءُ اَلضَّرَآءُ اَلشِّدَّۃُ۔سختی۔اَلنَّقْصُ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ مال میں یا جانوں میں کمی کا واقع ہونا۔اَلزَّمَانَۃُ یعنی آفت و مصیبت۔کسی عضو کا کٹ جانا۔یا ضائع ہوجانا اور ضَرَّآءُ اسم مؤنث ہے اس کا مذکر کوئی نہیں (اقرب) اَلْمَکْرُ اَلْمَکْرُ اَلْمَغَرَۃُ۔دھوکہ۔جَزَآءُ الْمَکْرِ۔سُمِّیَ بِہٖ کَمَا سُمِّیَ جَزَآءُ السَّیِّئَۃِ سَیِّئَۃً مَجَازًا عَلٰی سَبِیْلِ مُقَابَلَۃِ اَللَّفْظِ بِاللَّفْظِ فریب کے بدلہ کو بھی مکر کہتے ہیں اور اس کا نام مکر اسی طرح رکھا گیا ہے جس طرح سَیِّئَۃ کے بدلہ کو سَیِّئَۃ مجازاً کہتے ہیں۔عرب کے عام دستور کے مطابق کسی فعل کے مقابل پر اس کے بدلہ کے ذکر کے لئے بھی اسی فعل کا لفظ استعمال کرلیتے ہیں۔(اقرب) مَکَرَاللہُ فُلَانًا جَازَاہُ عَلَی الْمَکْرِ۔اللہ تعالیٰ نے فلاں شخص کو اس کے مکر کا بدلہ دیا قِیْلَ الْمَکْرُ صَرْفُ الْاِنْسَانِ عَنْ مَقْصَدِہٖ بِحِیْلَۃٍ۔مکر کے اصل معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ کسی شخص کو کسی تدبیر کے ذریعہ سے اس کے مقصد سے دور کر دینا اور ہٹا دینا۔وَھُوَنَوْعَانِ مَحْمُوْدٌ یُقْصَدُ