تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 74

اس زمانہ میں علماء کا اپنے کاتب رکھنا ثابت نہیں پادری صاحب کی آخری دلیل کہ اس زمانہ میں علماء کاتب رکھا کرتے تھے ایک اور شدید تاریخی غلطی ہے۔پادری صاحب نے عباسی خلافت کے زمانہ کا کوئی واقعہ پڑھ کر اس سے زمانہ جاہلیت پر استدلال کر لیا۔حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نہ عرب میں کوئی علماء ہوتے تھے نہ وہ کاتب رکھا کرتے تھے۔یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کی تائید میں قومی رواج تو الگ رہا ایک مثال بھی مسیحی مؤرخ نہیں پیش کرسکے۔مکہ کے ایک ہی عالم کا ذکر تاریخ میں ہے یعنی ورقہ بن نوفل۔اور وہ خود لکھا کرتے تھے ان کا کوئی کاتب نہ تھا۔افسوس ہے کہ مسیحی مصنف اپنے تعصب میں تاریخی حقائق بھی اپنے پاس سے بنا لیتے ہیں۔فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ پھر (تمہی بتاؤ کہ) جو اللہ( تعالیٰ) پر بہتان باندھے یااس کے نشانات کو جھٹلائے۔اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا۔بِاٰيٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ۰۰۱۸ (غرض) یہ یقینی بات ہے کہ مجرم لوگ کامیاب نہیں ہوتے۔حلّ لُغات۔اِفْتَرَآءٌ اِفْتَرٰی فَرْیٌ سے نکلا ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔اِفْتَرٰی عَلَیْہِ الْکَذِبَ اِخْتَلَقَہٗ (اقرب) اِفْتَرٰی کے معنی یہ ہیں کہ بات اپنے پاس سے بنا کر کسی کی طرف منسوب کر دی۔اصل معنی وہی کاٹنے کے ہیں۔یعنی جان بوجھ کر ایک بات کاٹ لیتا ہے۔اَفْلَحَ اَفْلَحَ فَازَوَ ظَفِرَ بِمَا طَلَبَ۔اپنے مقصود کو پالیا۔اَفْلَحَ بِالشَّیءِ عَاشَ بِہِ۔فلاں چیز کے ذریعہ سے خوش زندگی پائی۔اَفْلَحَ زَیْدٌ نَـجَحَ فِی سَعْیِہٖ وَاَصَابَ فِی عَمَلِہٖ اپنی کوشش میں کامیاب ہوا۔(اقرب) مُجْرِمُوْنَ مُجْرِمُوْنَ مُجْرِمٌ کی جمع ہے۔اور اَجْرَمَ سے نکلا ہے۔اَجْرَمَ کے معنی ہیں اَذْنَبَ گناہ کیا۔عَظُمَ جُرْمُہٗ اس کا گنہ بہت بڑا تھا۔اَجْرَمَ عَلَیْہِ الْجَرِیْمَۃَ جب کہا جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں اس پر ظلم کیا۔(اقرب) تفسیر۔دو قانون الٰہی مدعیان نبوت اور ان کے منکرین کے متعلق اس آیت میں دو حقیقتیں بیان کی گئی ہیں۔ایک تو یہ کہ الٰہی قانون میں دو قسم کے لوگ سزا سے نہیں بچ سکتے۔ایک تو وہ جو اپنے پاس