تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 69
کو نہ صرف کفار سچا کہا کرتے تھے بلکہ وہ آپ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا ناممکن قرار دیتے تھے۔امیہ بن خلف کی شہادت ایسا ہی ایک اور شدید دشمن آپ کا امیہ ابن خلف تھا۔اس کا یہ قول ہے وَاللہِ مَایُکْذِبُ مُـحَمَّدٌ اِذَا حَدَّثَ خدا کی قسم جب محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) بات کرتے ہیں تو سچ ہی کہتے ہیں جھوٹ نہیں بولتے۔(بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ) یہ بعض ر وایات ہیں جن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا کا دعویٰ واضح ہو جاتا ہے۔پادری ویری کا اعتراض کہ آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے بعض مسیحی مصنفوں نے اس آیت پر اعتراض کیا ہے۔چنانچہ ریورنڈ ویری صاحب جو ان میں سے قرآن کریم کے مفسر ہیں اس آیت کے نیچے سیل (ایک دوسرا انگریز جو قرآن کا مترجم تھا) کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ اس نے لکھا ہے کہ جب اس عمر تک میں تمہارے اندر رہا ہوں اور نہ میں نے کسی سے پڑھا نہ علماء کی مجلس میں بیٹھا اور نہ کبھی شعر یا خطبہ کہا تو اب اس بڑھاپے کی عمر میں میری نسبت کس طرح خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ عبارتیں میری اپنی تصنیف ہیں۔اس پر پادری ویری صاحب اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔(۱) کیا یہ عجیب بات نہیں کہ علیؓ کے ساتھ ایک ہی گھر میں پل کر علی تو تعلیم پائے مگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہ پائیں۔دوم کیا یہ تسلیم کیا جاسکتا ہے کہ سالوں تک ایک اہم تجارتی کام کرنے کے باوجود انہیں لکھنا نہ آتا ہو۔سوم آخری سالوں میں آپؐ یقیناً پڑھنا جانتے تھے۔کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ آپؐ نے حضرت معاویہ کوجو آپ کے کاتبوں میں سے ایک کاتب تھے حکم دیا کہ ’’ب‘‘ سیدھی ڈالو۔اور ’’س‘‘ کے دندانوں کو واضح کرو۔چہارم انہوں نے اپنی وفات سے پہلے قلم دوات منگائی تھی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لکھنا جانتے تھے۔ویری کی بحث کہ آپ نے لکھنا پڑھنا سیکھا تھا اب سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ فن کتابت انہوں نے کب سیکھا تھا۔بعض مفسرین کہتے ہیں کہ خدا نے انہیں اسی طرح سکھایا تھا جس طرح الہام سکھایا تھا۔یعنی الہاماً لکھنا پڑھنا بتایا تھا۔اور وہ اس کی سند میں اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ (العلق:۲) کو پیش کرتے ہیں۔یہ لکھ کر ویری صاحب کہتے ہیں کہ یہ رائے کہ وہ لکھنا پڑھنا جانتے تھے تو ان کی رائے ہے اور اس آیت سے ثابت ہے کہ آپ کو پڑھنا لکھنا آتا تھا۔لیکن یہ امر یہاں سے نہیں نکلتا کہ ان کو یہ علم معجزانہ طور پر سکھایا گیا تھا۔اور نہ یہ نکلتا ہے کہ اس سے پہلے وہ لکھنا پڑھنا نہ جانتے تھے۔پھر ویری صاحب لکھتے ہیں۔اگر کوئی یہ پیش کرے کہ آپ لکھنے کے لئے کاتب رکھا کرتے تھے تو اس دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کہ آپ کو لکھنا نہ آتا تھا۔کیونکہ کاتبوں کا رکھنا اس وقت کے بڑے بڑے عالموں میں رائج تھا۔پھر پادری ویری صاحب خود ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ پھر یہ خیال کہاں سے پیدا ہو گیا کہ