تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 68

دل پر غالب آگیا۔اور اس کی عداوت دب گئی۔اور وہ مجبور ہو گیا کہ اس صداقت کا اس قدر پرزور الفاظ میں علانیہ اقرار کرے۔حضرت خدیجہؓ کی شہادت بخاری باب بدءالوحی میں حضرت خدیجہؓ کا قول آتا ہے۔کَلَّاوَاللہِ مَایُخْزِیْکَ اللہُ اَبَدًا اَنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَحْمِلُ الْکَلُّ وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ وَتَقْرِیْ الضَّیْفَ وَتُعِیْنُ عَلٰی نَوَائِبِ الْحَقِّ۔کہ اللہ تجھ کو رسوا نہ کرے گا۔کیونکہ تو صلہ رحمی کرتا اور لوگوں کے بوجھ اٹھاتا، نایاب خوبیوں کو پیدا کرتا، مہمان نوازی کرتا اور مصیبت زدوں کی مدد کرتا ہے۔یہ شہادت آپ کی پہلی زندگی کے متعلق آپ کی بیوی کی ہے جو انسان کے اخلاق کی بہترین گواہ ہوا کرتی ہے۔ابوسفیان کی شہادت پھر بخاری میں ابوسفیان سے روایت آتی ہے کہ جب ہرقل کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تبلیغی خط پہنچا تو اس نے تلاش کروایا کہ عرب کا کوئی آدمی ملے جس سے ہم اس مدعی کے حالات دریافت کریں۔آخر ابوسفیان اور اس کا قافلہ جو تجارت کے لئے وہاں گیا ہوا تھا دربار میں حاضر کیا گیا۔ہرقل نے ابوسفیان کے ساتھیوں کو اس کے پیچھے کھڑا کر دیا اور کہا کہ اگر یہ جھوٹ بولے تو فوراً بتا دینا۔اس سلسلہ گفتگو میں ہرقل نے ابوسفیان سے پوچھا فَھَلْ کُنْتُمْ تَتَّہِمُوْنَہٗ بِالْکِذْبِ قَبْلَ اَنْ یَّقُوْلَ مَاقَالَہٗ قُلْتُ لَا۔کہ کیا تم لوگ اس کے دعوے سے پہلے اسے جھوٹا سمجھتے تھے۔ابوسفیان کہتا ہے میں نے کہا نہیں۔ایک روایت میں ابوسفیان نے ذکر کیا ہے کہ میرا دل چاہتا تھا کہ اس جگہ کچھ جھوٹ بول دوں مگر پھر ڈرا کہ ساتھی اس جھوٹ کا اظہار کر دیں گے۔(بخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہ ؐ) تمام قبائل قریش کی شہادت اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ (الشعراء:۲۱۵) کا حکم ہوا تو آپ پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے۔اور تمام قبائل کو جمع کرکے فرمایا اَرَئَیْتَکُمْ لَوْ أخْبَرْتُکمْ أنَّ خَیْلًا بِالوَادِیْ تُرِیْدُ اَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ أکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ قالُوْا نَعَمْ مَاَجَرَّبْنَا عَلَیْکَ اِلَّاصِدْقًا (بخاری کتاب التفسیر سورہ شعراء) آپ نے فرمایا کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ کوہ ابوقبیس کے پیچھے ایک لشکر ہے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات مان لو گے؟ انہوں نے کہا ہاں۔کیونکہ ہم نے جب بھی آپ سے معاملہ پڑا ہے آپ کو سچا ہی پایا ہے۔مکہ کے حالات سے باخبر لوگ جانتے ہیں کہ آپ کا یہ مطالبہ بڑا سخت تھا کیونکہ مکہ کے لوگوں کے جانور وادی میں چرا کرتے تھے۔اور وہ ایسا علاقہ ہے کہ اس میں لشکر کا چھپ رہنا ناممکن ہے۔پس کفار کا کہنا کہ اس ناممکن بات کو بھی تم اگر ہم سے بیان کرو گے تو ہم تمہیں سچا ہی قرار دیں گے۔بتاتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم