تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 551
قبلہ بنانے کی بڑی غرض یہ تھی کہ (نعوذباللہ) یہود خوش ہو کر آپ پر ایمان لے آئیں۔اور آپ کی اطاعت کریں۔اور آپ اس قبلہ کی طرف اہلِ عرب کو بھی دعوت دیا کرتے تھے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ لِلّٰہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَیْنَـمَا تُوَلُّوْ فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ۔اس روایت کے یہ الفاظ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نعوذباللہ یہ تبدیلی یہود کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کی تھی واضح طور پر اس امر کا ثبوت ہیں کہ یہ کسی فتنہ پرداز منافق یا کسی خبیث یہودی کی شرارت ہے۔اُس نے جب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رُخ کو بدل کر خانہ کعبہ کی طرف کر لیا ہے تو اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور اس نے یہ روایت وضع کر کے مسلمانوں میں پھیلا دی کہ بیت المقدس کی طرف منہ تو صرف اس لئے کیا گیا تھا کہ یہود کو مسلمان بنایا جائے۔مگر جب یہ تدبیر کا رگر نہ ہوئی تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر لیا۔اور بعض مفسرین نے بھی اپنی نادانی سے اس وضعی روایت کو اپنی تفسیروں میںدرج کر دیا اور لکھ دیا کہ یہود کی تالیف قلب کے لئے ہی بیت المقدس کی طرف منہ کیا گیا تھا۔(تفسیر جامع البیان جلد۲ صفحہ۴) پھر اس روایت کے وضعی ہونے کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے صرف محمد ؐ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ مسلمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپؐ کے نام کی بجائے ہمیشہ آپؐ کے رُوحانی مقام سے پکارا کرتے تھے۔یعنی محمدؐ کہنے کی بجائے ’’رسول اللہ‘‘ کہا کرتے تھے اور غیر مذاہب کے لوگ ایشیائی دستور کے مطابق آپ کا ادب اور احترام اس طرح کرتے تھے کہ بجائے آپ کو محمدؐ کہہ کر بلانے کے ابوالقاسم کہہ کر بلاتے تھے جو آپ کی کنیت تھی۔احادیث میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک یہودی مدینہ میں آیا۔اور اس نے آکر آپؐ سے بحث شروع کر دی بحث کے دوران میں وہ بار بار کہتا تھا اے محمدؐ بات یوں ہے۔اے محمدؐ بات یوں ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بِلا کسی انقباض کے اس کی باتوں کا جواب دیتے تھے مگر صحابہؓ اس کی یہ گستاخی دیکھ کر بے تاب ہو رہے تھے۔آخر ایک صحابیؓ سے برداشت نہ ہو سکا اور اس نے یہودی سے کہا کہ خبردار آپؐ کا نام لے کر بات نہ کرو۔تم رسول اللہ نہیں کہہ سکتے تو کم سے کم ابو القاسم تو کہو۔اس یہودی نے کہا میں تو وہی نام لوں گا جو ان کے ماں باپ نے ان کا رکھا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور آپؐ نے صحابہؓ سے فرمایا۔دیکھو یہ ٹھیک کہتا ہے۔میرے ماں باپ نے میرا نام محمدؐ ہی رکھا تھا۔جو نام یہ لینا چاہتا ہے اسے لینے دو اور اس پر غصہ کا اظہار مت کرو۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ صحابہؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف محمد کہہ کر کبھی نہیں پکارتے تھے بلکہ اگر کوئی غیر مذہب کا پیرو بھی آپ ؐ کو یَامُحَمَّد کہتا تو وہ انقباض محسوس کرتے۔جن صحابہؓ کے اخلاص و محبت کا یہ عالم تھا