تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 45
ان سے بالا سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اور اس طرح آئندہ کے لئے بھی ان کے ہدایت پانے کی امید نہیں رہتی۔گناہ اورسزا کی حقیقت تیسرا نکتہ جو اس آیت میں یاد رکھنے کے قابل ہے یہ ہے کہ اس میں گناہ اور سزا کی حقیقت پر ایک لطیف روشنی ڈالی گئی ہے۔گنہ کے متعلق تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی گناہ جس کی سزا ملتی ہے وہ ہے جو مکسوب ہو۔اور کسب کے معنی جیسا کہ لغت سے ثابت کیا جاچکا ہے جمع کرنے اور جان بوجھ کر کرنے کے ہیں۔پس کسب کے لفظ سے دو اشارے کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ گناہ گار وہ ہے جو جان بوجھ کر گناہ کی آلائش میں گرتا ہے۔اگر خطاء اور نسیان سے کوئی برا فعل انسان سے صادر ہوجاتا ہے تو وہ حقیقی گنہ نہیں اور ایسا انسان شریعت اسلامیہ کی اصطلاح میں گنہ گار نہیںکہلائے گا اور دوسرا اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ گناہ گار کے لئے ضروری ہے کہ وہ گناہ کو جمع کرے یعنی تواتر سے گناہ میں مبتلا ہو۔اگر تواتر نہ ہو یعنی انسان گودیدہ و دانستہ ہی گنہ کرے مگر اس کے فعل کے بعد پشیمان ہوکر اسے چھوڑ دے اور توبہ کرے تو وہ بھی گناہ گار نہیں ہوگا۔کیونکہ کسب کے معنوں میں جمع کرنا بھی شامل ہے۔اور تواتر پر یہ لفظ دلالت کرتا ہے۔پس ان معنوں کی رو سے اسلامی شریعت میں سزا کے قابل مجرم وہی ہوگا جو دیدہ و دانستہ جرم کرے اور بعد میں اس سے تائب نہ ہوا ہو۔چنانچہ ایک دوسری آیت میں اس کی تشریح ان الفاظ میں ہے اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ (النجم:۳۳) جو لوگ بڑے گناہوں اور کھلے عیبوں سے بچتے ہیں سوائے اس کے کہ وہ مرتکب ہو کر بعد میں اس کو چھوڑ بیٹھے ہوں (انہیں اللہ تعالیٰ جزا دے گا)۔تیرا رب یقیناً وسیع مغفرت والا ہے۔جہنم مجرموں کے لئے پناہ کی جگہ ہے سزا کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ۔ان کا مَأْوٰی نار ہوگا۔مَأْویٰ جیسا کہ بتایا گیا ہے پناہ کی جگہ اور اس مقام کو کہتے ہیں جس سے انسان چمٹ جاتا ہے۔اب یہ عجیب بات ہے کہ آگ کو پناہ کی جگہ اور چمٹ رہنے کا مقام قرار دیا جائے۔مگر تھوڑے سے غور سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس جگہ الٰہی سزا کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کی سزا دکھ دینے کے لئے نہیں بلکہ علاج کے لئے ہوتی ہے۔اور جس طرح علاج کی تکلیف کو انسان برا سمجھتا ہے مگر آخر اسی میں اپنی بہتری سمجھ کر اسے قبول کرتا ہے اسی طرح جب عذاب کی حقیقت کا انکشاف گناہ گاروں پر پوری طرح ہوجائے گا تو وہ اس نار کو جس میں ان کو ڈالا جائے گا اپنا ماویٰ خیال کریں گے یعنی حقیقی عذاب سے نجات کا ذریعہ جو کہ خداوند تعالیٰ کی ناراضگی اور اس سے دوری ہے۔پس ماویٰ کا لفظ استعمال کرکے بتایا ہے کہ عذاب دکھ میں ڈالنے کا ذریعہ نہیں بلکہ پاک کرنے کا ذریعہ ہے اور صرف وہی ایک ذریعۂ نجات و تطہیر ہے۔