تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 44
کی امید کیوں نہیں رکھتی۔اور اس امید کے مطابق کیوں عمل نہیں کرتی۔اگر تو امیدسے دور رہے گی تو بجائے ترقی کرنے کے تنزل کے عمیق گڑھوں میں گر جائے گی۔اور انہی الفاظ میں دوسری فطرت کو بھی مخاطب کرلیا ہے کہ اے وہ فطرت جو ڈر سے کام کیا کرتی ہے تو ہماری سزا سے بچنے کے لئے کیوں کوشش نہیں کرتی۔اور اس سے کیوں نہیں ڈرتی۔ورنہ یاد رکھ کہ ایسے ایسے ابتلاء تیرے سامنے ہیں کہ جن کی برداشت تیری طاقت سے زیادہ ہوگی گویا قرآن مجید نے ایک ہی لفظ سے پیار سے ماننے والی اور خوف سے اطاعت کرنے والی دونوں فطرتوں کی تسلی کردی۔دنیوی ترقی اور اسلام کا نقطہ نگاہ اس آیت میں رَضُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا فرماکر دنیوی ترقیات کے متعلق اپنا نقطۂ نگاہ واضح کر دیا ہے۔کہ اسلام دنیوی ترقیات کا مخالف نہیں۔جس امر کا وہ مخالف ہے وہ یہ ہے کہ انسان دنیا پر اکتفا کرلے اور خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل سے نکل جائے۔دوسرے یہ کہ وہ دنیا کے حصول کے بعد مزید ترقی کا خیال ترک کر دے اور اس پر ٹھہر جائے اور اطمینان پکڑ لے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔اطمینا ن کے معنی سکون کے ہوتے ہیں یعنی حرکت کے ترک کر دینے کے۔مطمئن اسے کہتے ہیں جو خیال کرتا ہے کہ اس نے اپنے مقصد کو پالیا۔اور اس نے جہاں پہنچنا تھا وہاں پہنچ گیا۔اور آگے چلنا اس نے بند کر دیا۔اور مزید ترقی کی کوششیں اس نے چھوڑ دیں۔اصل بات یہ ہے کہ رضا دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک رضا وہ ہوتی ہے جس کے بعد انسان کو آئندہ کوشش کا بھی خیال رہتا ہے۔وقتی طور پر تو وہ راضی ہو جاتا ہے لیکن آئندہ زیادہ کے حصول کی کوشش کا ارادہ اس میں باقی ہوتا ہے۔دوسری وہ رضا جس کے بعد آئندہ کسی کوشش کا خیال اس کے دل میں نہیں رہتا۔اس جگہ وَاطْمَأَنُّوْا بِہَا فرما کر دوسری رضاء کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ جو دنیا پر اطمینان کے ساتھ راضی ہو جاتا ہے اور ہمیں بھول جاتا ہے اور اخروی ترقیات کو نظرانداز کر دیتا ہے وہ ہمارے الزام کے نیچے ہے نہ کہ مجرد دنیوی ترقیات کرنے والا۔کیونکہ دنیوی ترقیات تو خود انعامات الٰہیہ میں سے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ دعا سکھاتا ہےرَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرۃ:۲۰۲)۔جو دنیوی ترقیات اخروی ترقیات سے وابستہ ہوں وہ انعامات الٰہیہ میں سے ہیں۔اور ان کو مانگنا مومن کے فرائض میں سے ہے۔اس سے آگے چل کر مضمون کو اور بھی واضح کر دیا ہے او ر وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیَاتِنَا غَافِلُوْنَ فرماکر بتایا ہے کہ یہ لوگ جن پر ہم ناراض ہیں وہ ہیں کہ جو دنیا میں اس قدر منہمک ہوجاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے نبیوں اور اس کی شرائع کی تحقیر کرنے لگ جاتے ہیں۔اور ان سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔اور اس طرح اپنی ہدایت کے دروازے بند کرلیتے ہیں۔کیونکہ ان کے دلوں کے زنگ خدا ہی کی ہدایت سے دور ہوسکتے تھے۔وہ اپنے آپ کو