تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 503

يُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۹۱ صبر کرے تو (ضرور اس کااجر پاتا ہے کیونکہ) اللہ( تعالیٰ) نیکو کاروں کے اجر کو ضائع ہرگزنہیں کرتا۔تفسیر۔حضرت یوسف علیہ السلام نے جس اعلیٰ رنگ میں گزشتہ واقعات کی طرف اشارہ کیا ہے اس سے اور حضرت یعقوبؑ کے زور دینے پر کہ یوسف زندہ ہے اس کی تلاش کرو اور مصر میں تلاش کرو ان کے ذہن فوراً اس طرف منتقل ہو گئے کہ کہیں یہی تو یوسف نہیں۔حضرت یوسفؑ کے اخلاق کا نمونہ حضرت یوسف علیہ السلام کے اخلاق کا پھر نمونہ دیکھو کہ انہیں ایک منٹ کے لئے شک میں نہیں رکھا اور فوراً اپنے آپ کو ظاہر کر دیا اور کس محبت سے تقویٰ اور صبر کی بھائیوں کو نصیحت بھی کی اور بتایا کہ سوال کرنے اور اپنے آپ کو ذلیل کرنے سے انسان مشکلات پر غالب نہیں آتا۔بلکہ اصل گر تقویٰ اللہ اور صبر ہے۔یعنی خدا پر توکل رکھے اور عمل کو جاری رکھے۔مصائب سے گھبرائے نہیں۔حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کے سامنے بن یامین کو بھی بلا لیا تھا الفاظ قرآن سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت انہوں نے بن یامین کو بھی بلالیا تھا تبھی فرمایا کہ یہ میرا بھائی ہے۔قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِـِٕيْنَ۰۰۹۲ انہوں نے کہا اللہ کی قسم! اللہ نے آپ کو ہم پر ضرور فضیلت دی ہے اور ہم یقیناً خطا کار تھے۔حل لغات۔اٰثَرَہٗ اِیْثَارًا اِخْتَارَہُ وَاَکْرَمَہٗ۔اٰثَرَہٗ۔کے معنے ہیں ا سکو چن لیا اور اعزاز دیا۔فَضَّلَہٗ اس کو بزرگی اور فضیلت دی اور قَدْاٰثَرَکَ اللہُ کے معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فضیلت دی ہے۔(اقرب) تفسیر۔اب یوسفؑ کے بھائیوں کی نیک فطرت نے بھی سر اٹھایا اور انہوں نے یوسف کی خواب کی صحت کو تسلیم کرلیا اور کہا کہ تیرا خواب آخر پورا ہو کر رہا اور باوجود ہماری مخالفت کے جس غلطی کا اب ہم اقرار کرتے ہیں خدا تعالیٰ نے تجھ کو فضیلت دی۔