تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 502
وجہ سے اخلاق میں گرتے چلے جاتے ہیں کہ آئے تو بھائیوں کی تلاش میں تھے۔لیکن کیا صرف یہ کہ غلہ کا سوال کرنا شروع کر دیا۔یا یہ ہے کہ اس خوف سے کہ ہمیں کوئی سازشی نہ سمجھے سوال صرف پردہ کے طور پر کیا۔اور اس طرح اپنے واپس آنے کی غرض کو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ کر دیا۔قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِيُوْسُفَ وَ اَخِيْهِ اِذْ اَنْتُمْ اس نے کہا( کہ) کیا تمہیں (اپنا وہ سلوک) معلوم ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا تھاجبکہ تم جٰهِلُوْنَ۰۰۹۰ (اپنے فعل کی برائی سے )ناواقف تھے۔تفسیر۔معلوم ہوتا ہے اس موقع پر حضرت یوسفؑ کو غیرت آگئی اور وہ ڈرے کہ بھائی اپنے آپ کو اور ذلیل نہ کریں اور اپنے ظاہر کرنے کا ارادہ کرلیا۔روحانی آدمی اور دنیادار میںفرق روحانی آدمی اور دنیادار میں کس قدر فرق ہوتا ہے۔یوسفؑ کے بھائیوں نے یوسفؑ پر جسمانی طور پر ہی ظلم نہیں کیا ان کی عزت کو بھی برباد کرنا چاہا اور چوری کا الزام لگایا۔اس کے برخلاف حضرت یوسفؑ ان کی غلطی کا ذکر کرتے ہیں تو اسے اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ کہہ کر ہلکا کردیتے ہیں۔حضرت یوسفؑ کے اخلاق کی ایک جھلک یعنی جو کچھ تم لوگوں نے یوسف سے کیا تھا ایک بچپن کا کھیل تھا ورنہ تم لوگ تو بہت اچھے ہو۔اخلاق کی ایسی ہی نمائشیں ہیں جو انسانیت کے حسن کو ظاہر کرتی ہیں اور جن کی نقل کرنے کی ہر شخص کو کوشش کرنی چاہیے۔قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ يُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا يُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِيْ١ٞ انہوں نے کہا( کہ) کیا واقع میں آپ( ہی تو) یوسف( نہیں) ہیں۔اس نے کہا( کہ) میں یوسف ہوں اور یہ میرا قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ يَّتَّقِ وَ يَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا بھائی ہے اللہ( تعالیٰ) نے ہم پر فضل کر دیا ہے۔بات یقیناً یہی (درست) ہے کہ جو (شخص) تقویٰ اختیار کرے اور