تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 43
اُولٰٓىِٕكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ۰۰۹ ان کی (اپنی )کمائی کی وجہ سے یقیناً (دوزخ کی) آگ ہے۔حلّ لُغات۔رَجَاءٌ یَرْجُوْنَ رَجَاءٌ میں سے فعل مضارع ہے۔عربی زبان میں رَجَاءٌ کا لفظ دو معنوں میں مستعمل ہوتا ہے۔أَمَّلَ بِہٖ۔اس کی امید رکھی۔خَافَہٗ۔اس سے ڈرا۔(اقرب) عام طور پر امید کے معنوں میں آتا ہے۔اور خوف کے لئے کم۔مگر آتا ضرور ہے۔لِقَآءٌ لِقَاءٌ لَقِیَ یَلْقٰی اور لَاقٰی یُلَاقِیْ ہر دو باب کا مصدر ہے۔پہلے باب میں اس کے معنی ہوں گے اِسْتَقْبَلَہٗ آگے ہو کر ملا۔رَاٰہ اسے دیکھا۔اور دوسرے باب میں اس کے معنے ہوں گے قَابَلَہٗ اس کے آمنے سامنے ہوا۔(اقرب) وَفِی الْمَغْرِبِ وَقَدْ غَلَبَ الّلقَاءُ عَلَی الْـحَرْبِ اور مغرب میں لکھا ہے کہ لِقَاء کا لفظ زیادہ تر جنگ کے معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے (اقرب) اِطْمَئَنَّ اِلَی کَذَا۔سَکَنَ وَاٰمَنَ لَہٗ۔ٹھہر گیا اور مطیع ومنقاد ہوگیا۔(اقرب) اٰوٰی مَأْوٰی اٰوٰی یَأْوِیْ مَأْوًی سے نکلا ہے اور اس کا اسم ظرف ہے۔اوٰی اِلیٰ کَذَا اِنْضَمَّ اِلَیْہِ۔اس سے لپٹ گیا۔(مفردات) مَأْوٰی اس مقام کو کہتے ہیں کہ جہاں انسان اترے اور اسے اپنی حفاظت کی جگہ سمجھے۔کیونکہ ایسی جگہ سے انسان گویا لپٹ جاتا ہے۔کَسَبَ الشَّیْءَ۔جَمَعَہٗ اس چیز کو جمع کرلیا۔اَلْاِثْمَ تَحَمَّلَہٗ گناہ کو جان بوجھ کر اختیار کرلیا۔مَالًا وَعِلْمًا طَلَبَہٗ وَرَبّـحَہٗ مال یا علم کو طلب کیا اور نفع بخش بنایا۔(اقرب) تفسیر۔قرآن کریم کا یہ کمال ہے کہ وہ ایسے الفاظ استعمال فرماتا ہے جو باوجود اختصار کے وسیع مطالب پیدا کردیتے ہیں۔اور چونکہ اس غرض کو پورا کرنے میں عربی زبان بہت کچھ ممد ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس زبان کو قرآن کریم کی زبان ہونے کا شرف بخشا ہے۔اس آیت میں دیکھو کہ عذاب میں مبتلا ہونے کے اسباب کو لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں رجاء کے دو معنے ہیں امید اور خوف اسی طرح لقاء کے دو معنی ہیں۔شوق سے آگے ہوکر ملنا۔یا جنگ و جدال۔اب فطرۃ انسانی پر غور کرکے دیکھ لو تمام انسانی ترقیات یا امید سے وابستہ نظر آئیں گی یا خوف سے۔کامل عمل یا خوف سے پیدا ہوتا ہے یا امید سے۔بعض لوگ اس لئے کام کرتے ہیں کہ انہیں کچھ مل جائے۔اور بعض اس لئے کہ وہ دکھ نہ پائیں۔قرآن مجید نے ایک ہی فقرہ میں دونوں فطرتوں کو مخاطب کرلیا ہے اور فرماتا ہے کہ اے وہ فطرۃ جو امید کے لئے کام کرتی ہے تو ہمارے ملنے