تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 501
فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَيْهِ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الْعَزِيْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا پس جب وہ (واپس ہو کر پھر) اس کے(یعنی یوسف کے) حضور حاضر ہوئے تو (اس سے) کہا (کہ) اے بادشاہ الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَيْلَ وَ ہمیں اور ہمارے (تمام) کنبہ کو( سخت) تنگی پہنچی (ہوئی) ہے اور ہم (بالکل) تھوڑی سی پونجی لائے ہیں پس آپ تَصَدَّقْ عَلَيْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَجْزِي الْمُتَصَدِّقِيْنَ۰۰۸۹ (محض احسان کےطور پر) ہمیں (غلہ کا) پیمانہ پورا دے دیں اور ہمیں صدقہ (کے طور پر حق سے بھی کچھ زیادہ) دیں اللہ (تعالیٰ) صدقہ دینے والوں کو یقیناً (بڑا) اجر دیتاہے۔حلّ لُغَات۔اَلضُّرُّ۔ضِدُّ النَّفْعِ۔ضُرٌّ کے معنے ہیں نقصان۔سُوْءُ الْحَالِ وَالشِدَّۃ۔تنگ حالی وَفِی الْکُلّیَّاتِ اَلضَرُّ بِالْفَتْحِ شَائِعٌ فِیْ کُلِّ ضَرَرٍ وَبِالضَّمِّ خَاصٌ بِمَا فِی النَّفْسِ کَمَرَضٍ وَھُزَالٍ کلیات میں یوں لکھا ہے کہ ضُرٌّ کے معنے خاص اس تکلیف کے ہیں جو خود نفس میں ہو جیسے بیماری یا لاغر پن وغیرہ لیکن ضَرٌّ کا لفظ عام ہے اور ہر تکلیف پر بولا جاتا ہے۔(اقرب) مُزْجٰۃٍ اَلْمُزْجٰی۔اَلشَّیْءُ الْقَلِیْلُ مُزْجٰی کے معنے ہیں تھوڑی سی چیز۔بِضَاعَۃٌ مُزْجَاۃٌ۔اَیْ قَلِیْلَۃٌ۔بِضَاعَۃٌ مُزْجَاۃٌ کے معنی ہیں تھوڑی سی پونجی۔وَقِیْلَ رَدِیَّۃٌ لَمْ یَتِمَّ صَلَاحُھَا فَتُرَدَّ وَتُدْفَعُ رَغْبَۃً عَنْہَا۔ایسی پونجی جس میں نقص ہو اور لوگ اس کو اچھا نہ سمجھ کر واپس کر دیویں۔پس جِئْنَا بِبِضَاعَۃٍ مُزْجَاۃٍ کے معنی یہ ہوئے کہ ہم تیرے پاس حقیر اور تھوڑی چیز لائے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔عزیز کا لفظ صرف سردار کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے عَزِیْزٌ عربی لفظ ہے اور اس کے معنی معزز یا کامیاب کے ہوتے ہیں۔یہ کوئی خاص عہدہ نہیں معلوم ہوتا۔گو اب بعدکے زمانہ میں بادشاہ کے لئے بھی عزیز مصر کا لفظ استعمال ہونے لگا ہے لیکن مصریوں کی زبان عربی نہ تھی کہ ہم یہ خیال کریں ان کے وزراء عزیز کہلاتے تھے۔پس میرے نزدیک یہ صرف سردار کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اس صورت میں اس سے پہلے جو اِمْرَأَۃُ الْعَزِیْزِ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کے معنے بھی یہی ہیں کہ اس سردار یا اس عہدیدار کی عورت۔برادان یوسف کا سہ بارہ مصر میں آنا یوسفؑ کے بھائیوں کا رویہ اس موقع پر ناقابل فہم ہے۔یا تو وہ گناہ کی