تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 500
ہوں کہ بھیڑیا کھا گیا ہے یا اور کسی ذریعہ سے مر چکا ہے وہ اپنے بیٹوں کو تلاش کا حکم دیتے اور خصوصاً مصر میں تلاش کا حکم دیتے۔ترقی کا بے عدیل گر۔تمام ناکامیوں کی جڑ ہمت ہارنا ہے اس آیت میں روحانی اور جسمانی ترقی کا بے عدیل گر بتایا ہے۔تمام ناکامیوں کی جڑ ہمت ہار دینا ہے۔جو شخص قطعی اور یقینی علم کے بغیر کام ترک کر دیتا ہے ہمیشہ اپنے پیشہ میں یا اپنے مقصد میں ناکام رہتا ہے۔معمولی سے معمولی پیشوں میں بھی یہ اصل کام دے رہا ہے۔ایک بڑے آہن گر اور ایک معمولی آہن گر میں یہی فرق دیکھو گے کہ ایک ہر مشکل کام کے وقت کہے گا یہ نہیں ہوسکتا دوسرا اس کے حل کرنے پر لگا رہے گا۔اور آخر کامیاب ہو جائے گا۔پیشوں میں ہی نہیں قدرت کے افعال میں بھی یہ اصل کام کررہا ہے۔جو بیمار صحت کی امید دل سے نکال دیتا ہے اسے صحت ہونی مشکل ہوجاتی ہے۔جو طالب علم کامیابی کا خیال چھوڑ دیتا ہے اس کا حافظہ کند ہونا شروع کر دیتا ہے۔روحانی حالتوں میں بھی یہی اصل کام کررہا ہے۔جو قومیں گناہ کی معافی کی قائل نہیں وہ گناہ کے دور کرنے کے لئے پوری جدوجہد بھی نہیں کرتیں۔جو فطرت کی پاکیزگی کی قائل نہیں وہ روحانی طاقتوں کو ان کے کمال تک پہنچانے کی طرف بھی متوجہ نہیں۔رسول کریم ؐ نے مایوسی کی حالت کو دور کرنے کی طرف خاص توجہ فرمائی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مایوسی کی حالت کو دور کرنے کی طرف خاص توجہ فرمائی ہے۔جیسے فرمایا کہ لِکُلِّ داءٍ دَوَاءٌ اِلَّا الْمَوْت۔ہر مرض کی سوائے موت کے کہ اس کا آنا ضروری ہے دوا موجود ہے۔یا فرمایا مَنْ قَالَ ھَلَکَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ جو کہے کہ قوم ہلاک ہو گئی ہے وہی قوم کا ہلاک کرنے والا ہے۔کیونکہ وہ قوم کی امید کو توڑ کر اس کو ہلاکت کے قریب کر دیتا ہے۔پس چاہیے کہ انفرادی طور پر بھی اور قومی طور پر بھی امید کی روح کو ترقی دی جائے۔مگر یہ امر مدنظر رہے کہ امید ہو جس کے ساتھ قوتِ عملیہ ترقی کرتی ہے۔نہ کہ امانی یا بیہودہ خواہشات ہوں جو سستی اور غفلت پیدا کرتی ہیں۔جیسے مسلمانوں میں بجائے کوشش کرکے اپنی حالت درست کرنے کے خیال کے یہ خیال غالب رہا ہے کہ مسیح آکر سب دنیا کی نعمتیں ان کو دے دیں گے۔محض خواہشات بھی مہلک ہوتی ہیں امانی یعنی محض خواہشات جب مستقل طور پر دل میں بیٹھ جائیں تو وہ بھی ناامیدی کی طرح مہلک ہوتی ہیں۔