تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 499
اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۰۰۸۸ سوا کوئی (انسان) نا امید نہیں ہوتا۔حلّ لُغَات۔تَحَسَّسُوْا۔تَحَسَّسَ اِسْتَمَعَ لِحَدیْثِ الْقَوْمِ:- تَحَسَّسَ کے معنے ہیں قوم کی باتوں کو غور سے سنا۔وَطَلَبَ خَبَرَھُمْ فِی الْخَیْرِ اور ان کی اچھی بات کی جستجو کی۔وَقِیْلَ التَّحَسُّسُ شِبْہُ التَّسَمُّعِ وَالتَّبَصُّرِ اور بعض نے یوں بیان کیا ہے کہ تَحَسَّسَ کے معنوں میں ویسا ہی زور پایا جاتا ہے جیسے تَسَمُّعٌ اور تَبَصُّرٌ کے معنوں میں۔یعنی کسی چیز کو غور سے سننا اور دیکھنا۔چنانچہ مثال کے طور پر اُخْرُجْ فَتَحَسَّسْ لَنَا کا فقرہ ہے جس کے معنے ہیں کہ اے مخاطب جا اور جاکر مطلوبہ چیز کو اپنے حواس سے اچھی طرح طلب کر یعنی خوب غور سے اس کی جستجو کر۔وقال ’’ اَ بُوْعُبَیْدٍ تَحسَّسْتُ الْخَبَرَ وتَحَسَّیْتُ‘‘ اور ابوعبید نے کہا ہے کہ تَحَسَّسْتُ اور تَحَسَّیْتُ جس کے معنے کسی چیز کو حواس سے طلب کرنے کے ہیں ہم معنے ہیں۔مِنَ الشَّیْءِ تَخَبَّرَ خَبَرَہٗ۔تَحسَّسْتُ مِنَ الشَّیْ ءِکے معنے ہیں کہ کسی خبر کی جستجو کی۔وَبِکُلِّ مَاذُکِرَ فُسِّرَ قَوْلُ الْقُراٰنِ۔یٰبُنِیَّ اذْھَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُوسُفَ وَاَخِیْہِ۔مذکورہ بالا سارے معنے آیت فَتَحَسَّسُوْا میں چسپان ہوسکتے ہیں۔(اقرب) لَاتَایْئَسُوْا: یَئِسَ قَنَطَ اَوْقَطَعَ الْاَمْلَ۔فَہُوَ یَائِسٌ یَئِسَ کے معنے ہیں ناامید ہو گیا یا امید کو چھوڑ دیا اور ایسے شخص کو یَائِسٌ کہتے ہیں۔(اقرب) وَلَا تَایْئَسُوْا کے معنے ہوں گے تم ناامید نہ ہو۔رَوْحٌ۔رَاحَ۔رَوْحًا۔ذَھَبَ اِلَیْھِمْ فِی الرَّوَاحِ۔رَوْحٌ رَاحَ کا مصدر ہے۔اور رَاحَ کے معنے ہیں کسی کے پاس شام کو گیا۔رَا حَ الْیَوْمُ۔اِذَا کَانَ رَیْحًا طَیِّبًا۔رَاحَ الْیَوْمُ کے معنی ہیں ہوا والا خوشگوار دن۔وَالرَّوْحُ بِمَعْنَی الرَّاحَۃِ اور روح کے معنے ہیں راحت۔وَنَسِیْمُ الرِّیْحِ تَقُوْلُ وَجَدْتُ رَوْحَ الشَّمَالِ۔بادنسیم اور انہی معنوں میں وَجَدْتُ رَوْحَ الشَّمَالِ کا فقرہ استعمال ہوا ہے کہ میں نے شمال کی طرف سے بادنسیم کو محسوس کیا۔وَالنُّصْرۃُ مدد۔وَالْعَدْلُ الَّذِیْ یُرِیْحُ الْمُشْتَکیْ ایسا عدل جو شکایت کرنے والے کو تسلی دے دے۔وَالْفَرَحُ۔وَالسُّرُوْرُ خوشی وَالرَّحْمَۃُ۔رحمت۔وَمِنْہُ لَاتَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللہِ۔اور اس آیت میں یہی آخری معنے مراد ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام کے زندہ ہونے اور پھر مصر میں ہونے کی خبر خدا تعالیٰ کی طرف سے حاصل تھی ورنہ ممکن نہیں ایک لڑکے کے متعلق جسے وہ سمجھتے