تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 498

حضرت یعقوب علیہ السلام اندھے ہوکر نکمے ہو گئے تھے وہ گویا کہتے ہیں کہ وہ اس خطرہ کے اظہار سے پہلے ہی نکمے ہوچکے تھے۔حالانکہ خدا تعالیٰ کے نبی ہمیشہ صبر کرتے ہیں اور اس طرح گھبراتے نہیں۔ہم نے خود ایک نبی کو دیکھا ہے اور اس کے حالات کو بھی دیکھا ہے۔قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَ حُزْنِيْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ اس نے کہا( کہ) میں اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ (تعالیٰ) ہی کے حضور کر تا ہوں اور میں اللہ( تعالیٰ) کی طرف مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۰۰۸۷ سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم نہیں رکھتے۔حلّ لُغَات۔اَلْبَثُّ اَلْحَالُ۔بَثٌّ کے معنے ہیں حال۔اَشَدُّ الْحُزنِ۔سخت غم۔(اقرب) اَصْلُ الْبَثِّ اَلتَّفْرِیْقُ وَاِثَارَۃُ الشَّیءِ۔بَثّ کے اصل معنے بکھیرنے اور منتشر کرنے کے ہیں۔وَبَثُّ النَّفْسِ مَاانْطَوَتْ عَلَیْہِ مِنَ الْغَمِّ وَالسِّرِّ۔اور بَثُّ النَّفْسِ کے معنے ہیں غم اور راز۔اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّی اَیْ غَمِّیَ الَّذِیْ یَبُثُّہٗ عَنْ کِتْمَانٍ اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ کے معنے ہیں کہ میں اپنے اس غم کی فریاد کرتا ہوں جس کا اظہار کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔غَمِیَّ الَّذِیْ بَثَّ فِکْرِیْ۔ایسا غم جس نے فکر اور سوچ کی طاقت کو پراگندہ کر دیا ہو۔(مفردات) تفسیر۔حضرت یعقوبؑ کو یوسف کے زندہ ہونے کا علم دیا گیا تھا میں تو اپنی حالت اور غم کی شکایت صرف اللہ کے پاس کرتا ہوں وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ اور میں اس کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔اس میں اشارہ ہے کہ ان کو حضرت یوسفؑ کے زندہ ہونے کا علم خداوند تعالیٰ کی جانب سے دیا گیا ہوا تھا۔يٰبَنِيَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ يُّوْسُفَ وَ اَخِيْهِ وَ لَا اے میرے بیٹو! جاؤ اور( جا کر) یوسف اور اس کے بھائی کی جستجو کرو تَايْـَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا يَايْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اور اللہ( تعالیٰ) کی رحمت سے ناامید مت ہو (اصل) بات یہی ہے کہ اللہ( تعالیٰ) کی رحمت سے کافر لوگوں کے