تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 497
قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ يُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ انہوں نے کہا( کہ) اللہ کی قسم (یوں معلوم ہوتا ہے کہ) آپ یوسف کا ذکر کرتے ہی رہیں گے۔یہاں تک کہ آپ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِيْنَ۰۰۸۶ بیمار پڑ جائیں یا آپ ہلاک ہو جانے والوں میں سے ہو جائیں۔حلّ لُغَات۔مَافَتِیَٔ مَافَتَأَ یَفْعَلُ کَذَا۔وَمَافَتِیَٔ اَیْ مَازَالَ۔مَافَتِیَٔ کے معنے ہیں کوئی کام لگاتار کرنا اور اس کا سلسلہ نہ توڑنا (اقرب) اور تَفْتَؤُاتَذْکُرُ کے معنی ہوں گے کہ آپ ذکر کرتے ہی رہیں گے۔حَرَضٌ۔حَرَضَ حُرُوْضًا کَانَ مُضْنًا مَرَضًا وَسُقْمًا۔حَرَضَ کے معنی ہیں بیماری کی وجہ سے لاغر ہو گیا۔الرَّجُلُ نَفْسَہٗ اَفْسَدَھَا اپنی حالت کو خراب کرلیا۔حَرِضَ حَرَضًا: فَسَدَ بَدَنُہٗ لَایَقْدِرُ عَلَی النُّہُوْضِ: جب اس کا مصدر حَرَضًا آئے تو اس کے معنی ہوتے ہیں بدن اتنا کمزور ہو گیا کہ حرکت کے قابل نہ رہا اور حَرُضَ حَرَاضَۃً کے معنے ہیں طَالَ ھَمُّہٗ غم لمبا ہو گیا۔اَلْحَرْضُ اَلْفَسَادُ فِی الْبَدَنِ وَفِی الْمَذْھَبِ وَفِی الْعَقْلِ۔بدن، مذہب یا عقل میں کسی خرابی کے پیدا ہوجانے کو حَرَضٌ کہتے ہیں اَلْمُشْرِفُ عَلَی الْھَلَاکِ تَسْمِیَۃً بِالمَصْدِرِ لِلمُبَالَغَۃِ اور ہلاکت کے کنارہ پر پہنچے ہوئے شخص کو بھی حَرَضٌ کہتے ہیں۔مصدر مبالغہ کے لئے استعمال ہوا ہے۔جیسے کہتے ہیں زَیْدٌ عَدْلٌ کہ زید تو مجسمہ عدل ہے۔حَرَضٌ کے اور بھی کئی معانی ہیں مثلاً مَنْ لَاخَیْرَ عِنْدَہٗ وَقِیْلَ مَن لَا یُرْجٰی خَیْرُہٗ وَلَایُخَافُ شَرُّہٗ جس سے نہ تو کسی بھلائی کی امید ہو اور نہ ہی کسی تکلیف کا خطرہ ہو۔مَنْ اَذَابَہُ الْحُزْنُ اَوِالْعِشْقُ جس کو غم یا عشق گھلا دے۔السَّاقِطُ لَاخَیْرَ فِیْہِ۔نکما۔اَلرَّدِیُٔ مِنَ النَّاسِ ناکارہ شخص۔المُضْنٰی مَرَضًا وَسُقْمًا وَمِنْہُ فِی الْقُراٰنِ حَتّٰی تَکُوْنَ حَرَضًا اَیْ مُدْنَفًا۔بیماری کی وجہ سے لاغر اور انہی معنوں میں قرآن مجید میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔(اقرب) تفسیر۔لَاتَفْتَؤُا استمرار و نفی کے لئے آتا ہے لَاتَفْتَؤُا استمرار و نفی کے لئے آتا ہے اور لَایَزَالُ کے معنوں میں آتا ہے کبھی بغیر قسم کے استعمال ہوتاہے کبھی وہ ساتھ ملحوظ ہوتی ہے۔یعنی تو ہمیشہ ایسا ہی کرتا رہے گا یہاں تک کہ تو کمزور ہو جائے گا۔تو حَرَضٌ کے معنے بالکل نکما یا ہلاک ہونے کے ہوئے۔یوسفؑ کے بھائی تو اعتراض کرتے ہیں کہ تو اس طرح نکما ہو جائے گا مگر وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ