تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 480
اور یہ کام نبی تو کیا ایک معمولی شریف آدمی بھی نہیں کرسکتا۔دراصل یہ قصور بائبل کا ہے جس نے یہ قصہ پیش کیا اور ہمارے مفسروں نے سادہ لوحی سے اسے نقل کر دیا۔مَلَک کے لفظ کا استعمال حضرت یوسف ؑکے لئے خوشامدانہ ہے مَلَک کا لفظ یا تو حضرت یوسفؑ کے لئے خوشامدانہ رنگ میں استعمال کیا ہے جیسے غرباء بڑے لوگوں کو بادشاہ کہہ کر پکارتے ہیں یا پھر سرکاری کام کے وقت سرکاری برتن استعمال کئے جاتے ہوں گے اور انہیں بادشاہ کا برتن کہنا بالکل درست ہے۔گمشدہ پیالہ قیمتی تھا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیالہ قیمتی تھا تبھی اس کے ڈھونڈنے والے کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ انعام رکھا ہے۔اتنا انعام چاندی سونے کے برتن کے لئے ہی رکھا جاسکتا ہے۔یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ چاندی سونے کے برتن استعمال کرنے تو منع ہیں کیونکہ یہ اسلامی حکم ہے۔یہود میں ایسی ممانعت نہیں نہ فراعنۂ مصر اس کو برا سمجھتے تھے۔حضرت یوسف ؑ پر یہود کے الزام کی تردید یہ سوال کہ یوسف علیہ السلام نے بھائی کے اسباب میں کیا چیز اور کس ارادہ سے رکھی اور پھر چوری کا الزام ان پر کس طرح لگا؟ لوگوں کے لئے ہمیشہ زیربحث رہا ہے۔جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے یہود کا یہ خیال ہے کہ حضرت یوسفؑ نے جان کر ایک برتن رکھ دیا۔پھر چوری کا الزام لگا کر ان کو اپنے پاس رکھ لیا۔لیکن یہ اتنا بڑا ظلم ہے کہ نبی کی طرف اس کا منسوب کرنا کفر ہے۔بن یامین کو حضرت یوسفؑ پاس رکھنے کی الٰہی تدبیر میرے نزدیک اس مشکل کا حل خود قرآن کریم سے ہی ہو جاتا ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے ایک پانی پینے کا برتن خود اپنے ہاتھ سے اپنے بھائی کے اسباب میں رکھا تھا پھراس میں یہ بھی ہے کہ ایک صُوَاعٌ یعنی ماپنے کا برتن بھی گم ہو گیا جو تلاش پر حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی کے اسباب میں سے نکلا۔حضرت یوسفؑ نے پانی پینے کا برتن اپنی محبت کے اظہار کے لئے بھائی کے سامان میں رکھا تھا برتن کا بھائی کے اسباب میں رکھنا کوئی ایسا واقعہ نہ تھا کہ جسے قرآن کریم ذکر کرتا۔جب تک اس میں کوئی غرض نہ ہوتی اور وہ غرض یہی معلوم ہوتی ہے کہ پینے کا برتن بغیر بھائی کو علم دینے کے حضرت یوسف علیہ السلام نے رکھ دیا تا اس طرح اپنی محبت کا اظہار کریں۔اس برتن کے رکھتے ہوئے ماپنے کا سرکاری برتن جو غالباً اس وقت ان کے ہاتھ میں تھا بھول کر ساتھ ہی رکھا گیا۔جب وہ برتن نہ ملا تو نوکروں نے اسے چوری قرار دے کر تلاشی لینی شروع کی۔سب قافلے کے ساتھ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی بھی تلاشی لینی ضروری تھی۔مگر حضرت یوسف کی مہربانی کو دیکھ کر