تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 479
۱۔جان بوجھ کر پیالہ رکھ دیا اور یہ محبت کے جذبہ کی وجہ سے تھا کہ تا راستہ میں پیاس کے وقت اس میں پانی پئے۔۲۔بھول کر رکھ دیا اور یہ اس طرح ہوسکتا ہے کہ اپنے بھائی سے باتیں کرتے ہوئے پانی منگایا اور پینے کے بعد وہیں بھول کر پیالہ رکھ دیا۔قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَيْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ۰۰۷۲قَالُوْا نَفْقِدُ انہوں نے ا ن (شاہی کارندوں) کی طرف رخ کر کے کہا (کہ) تم کیا چیز گم پاتے ہو۔انہوں نے کہا (کہ) ہم غلہ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِيْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ ماپنے کا شاہی پیمانہ گم پاتے ہیں۔اور جو شخص اسے (تلاش کر کے) لے آئے تو ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر( غلہ) زَعِيْمٌ۰۰۷۳ اس کا (انعام) ہو گا اور(اعلان کرنے والے نے یہ بھی کہا کہ) میں اس کا ذمہ وار ہوں۔حلّ لُغَات۔اَقْبَلَ عَلَیْہِ۔نَقِیْضُ اَدْبَرَ۔اَقْبَلَ عَلَیْہِ کے معنی ہیں اس کی طرف رخ کیا۔(اقرب) اَلْاِقْبَالُ۔اَلتَّوَجُّہُ نَحْوُالْقُبُلِ۔سامنے آنا رخ کرنا۔(مفردات) قَالُوْا وَاَقْبَلُوْا عَلَیْہِمْ کے معنے ہوئے کہ انہوں نے ان کی طرف رخ کرکے کہا۔صُوَاعٌ۔صُوَاعٌ اَلْمِکْیَالُ الَّذِیْ یُکَالُ بِہٖ۔صُوَاع غلہ ماپنے کا ایک خاص پیمانہ ہوتا ہے۔اَلْجَامُ الَّذِیْ یُشْرَبُ فِیْہِ۔پانی پینے کے جام کو بھی صُوَاع کہتے ہیں۔(اقرب) اَلزَّعِیْمُ اَلْکَفِیْلُ زعیم کے معنے ضامن اور ذمہ وار کے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ اختلاف ہوا ہے۔بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے وہ برتن جان بوجھ کر بھائی کے اسباب میں رکھ دیا۔اس کے بعد کہا کہ تم چور ہو۔یہ یوسف علیہ السلام پر افترا ہے۔ایک طرف تو بھائی کے ساتھ اتنی محبت دوسری طرف چند دن کی صحبت کی غرض سے اس کے اسباب میں برتن رکھ کر اس پر چوری کا الزام لگانا اور ساری عمر کے لئے اسے داغ دار کر دینا نہ صرف یوسف علیہ السلام کو جھوٹ کا بلکہ ظلم کا مرتکب بناتا ہے