تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 465
مُنْکِرٌ بنتا ہے اور مُنْکِرُوْنَ اس کی جمع ہے وَھُمْ لَہٗ مُنْکِرُوْنَ کے معنے ہوئے کہ وہ اسے نہ پہچان سکے۔تفسیر۔مفسرین نے اس جگہ بہت بحث کی ہے کہ چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے داڑھی آگئی تھی اور آپ موٹے ہو گئے تھے اس لئے ان کے بھائی انہیں نہ پہچان سکے۔اگر ایسا ہی ہوا ہوتا تو یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا جاتا۔میرے نزدیک اس میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے شروع میں کہی تھی کہيَـخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ۔ان کا خیال تھا کہ جب یوسفؑ باپ کے پاس نہ رہے گا تو ہماری عزت بڑھ جائے گی۔حضرت یوسفؑ کے بھائی انہیں ان کی ترقی کے باعث نہ پہچان سکے سو اس آیت میں بتایا ہے کہ حضرت یوسفؑ تو اس جدائی کے سلسلہ میں اس قدر ترقی کر گئے کہ ان کے بھائی انہیں پہچان ہی نہ سکے لیکن وہ ویسے کے ویسے ہی رہے۔آنحضرت صلعم کی حضرت یوسفؑ سے پندرھویں مشابہت آنحضرتؐ کی حیرت انگیز ترقی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت یوسف علیہ السلام سے اس بات میں بھی مشابہت ہے کہ آپ کے بھائی بھی آپ کی ترقی کو دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے تھے۔آنحضرت صلعم کا ہرقل کے نام خط جب آپؐ نے بادشاہوں کو خطوط لکھے اور اسی سلسلہ میں ایک خط روم کے بادشاہ ہرقل کو بھی لکھا۔گو اس وقت ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ ملک شام میں گیا ہوا تھا ہرقل یہ خط پڑھ کر گھبرا گیا۔اس نے پوچھا یہ کون شخص ہے جو اس جرأت سے مجھے خطاب کرتا ہے۔لوگوں نے کہا کہ یہ عرب کا ایک شخص ہے جو نبوت کا مدعی ہے۔اس نے کہا کہ ہمیں اس کے حالات دریافت کرنے چاہئیں۔چنانچہ ابوسفیان اور اس کے ہمراہیوں کو دربار میں حاضر کیا گیااور ہرقل نے یہ معلوم کرکے کہ ابوسفیان سب کا سردار ہے اس سے سوالات کرنے شروع کئے اور اس کے ساتھیوں کو کہا کہ اگر یہ جھوٹ بولے تو تم فوراً بتلا دینا۔ہرقل کے ابو سفیان سے سوالات پھر اس نے ابوسفیان سے چند سوال کئے جو آج تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے لئے ایک زبردست نشان کے طو رپر قائم ہیں۔اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر اس طرح سے جرح کی ہے کہ دیکھ کر حیرت آتی ہے۔پہلا سوال مثلاً اس نے پوچھا کہ اس کے باپ دادوں سے کوئی بادشاہ تھا۔کیونکہ ایسا ہو تو سمجھا جائے گا کہ وہ گم شدہ حکومت و عزت کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ابوسفیان نے کہا کہ نہیں۔