تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 464

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں نے بھی آپؐ کو اس نیت سے نکالا تھا لیکن جس طرح حضرت یوسف علیہ السلام کو اس جگہ جہاں وہ جاکر بسے خدا تعالیٰ نے خاص عزت دی اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی بجائے ذلت کے خاص عزت ملی۔آنحضرتؐ اور حضرت یوسفؑ میںفرق صرف فرق یہ ہے کہ یوسف علیہ السلام کی عزت نیابتی اور بادشاہ کی طرف سے تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آزاد حکومت عطا فرمائی اور خود بادشاہ بنا دیا اور یہی فرق ان دونوں وجودوں میں روحانیت کے لحاظ سے بھی تھا۔وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا يَتَّقُوْنَؒ۰۰۵۸ اور( اس دنیاوی اجر کے علاوہ) آئندہ (زندگی کا) بدلہ ایمان لانے والوں اور( اللہ تعالیٰ کا) تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لئے( کہیں) بڑھ (چڑھ) کرہوگا۔تفسیر۔اولیاء اور انبیاء ذلیل نہیں ہوتے یعنی دنیا میں بھی ہم ان کواجر دیتے ہیں لیکن صرف یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ اولیاء و انبیاء ذلیل نہیں ہوتے۔ہاں اصل اجر ان کا آخرت میں ہی ہے جو سب قسم کی نعمتوں سے بہتر ہے۔وَ جَآءَ اِخْوَةُ يُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ اور( اس قحط کے زمانہ میں) یوسفؑ کے بھائی (بھی اس ملک میں) آئے پھر (وہ) اس کے حضور میں حاضر (بھی) مُنْكِرُوْنَ۰۰۵۹ ہوئے اور اس نے انہیں(دیکھتے ہی) پہچان لیا۔مگر وہ اسے نہ پہچان سکے۔حلّ لُغَات۔دَخَل دَخَلَ الْبَیْتَ ضِدُّ خَرَجَ دخل کے معنی ہیں اندر آیا۔دَخَلَ عَلٰی فُلَانٍ: زَارَہٗ۔اس سے ملا۔(اقرب) پس دَخَلُوْا عَلَیْہِ کے یہ معنے ہوئے کہ وہ اس کے پاس گئے یا وہ اس کے حضور حاضر ہوئے۔مُنْکِرُوْن اَنْکَرَہٗ جَھِلَہٗ۔اَنْکَرَ کے معنے ہیں اسے نہ پہچانا۔ا س سے بے خبر رہا۔اس سے اسم فاعل کا صیغہ