تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 463
بناکر اس میں ٹھہرنے کے ہیں۔مزید تشریح کے لئے دیکھئے یونس ۸۵۔اَلْاَجْرُ اَلثَّوَابُ۔اجر کے معنے ہیں ثواب بدلہ (اقرب) اَلْاَجْرُ۔والاُجْرَۃُ مَایَعُوْدُ مِنْ ثَوَابِ الْعَمَلِ دُنْیَوِیًّا کَانَ اَوْ اُخْرَوِیًّا۔دنیوی یا اخروی کام کے بدلہ میں جو کچھ ملے اس کو اجر اور اجرت کہتے ہیں جیسے قرآن کریم میں ہے اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِوَ اٰتَیْنَاہُ اَجْرَہٗ فِی الدُّنْیَا۔(مفردات) تفسیر۔مکّنَّا کے بلحاظ مقام کے دو مختلف معنی یہاں بھی مکّنّا فرمایا اور پہلے بھی لیکن وہاں اس کے ساتھ وَلِنُعَلِّمَہٗ مِنْ تَأْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ فرمایا تھا کہ ابھی ہم نے اس پر مصائب و مشکلات ڈال کر امتحان لینا ہے اور یہاںنُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ فرما کر بتایا ہے کہ ابتلاء کا زمانہ گزر گیا۔اب ہم نے اسے ایسی عزت دی ہے کہ اس کو کوئی تکلیف نہ ہوگی اور ان پر رحمت ہی رہے گی۔وَلَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِيْنَ جو شخص دنیا میں محسن ہوتا ہے اس کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔محسن سے مراد اللہ تعالیٰ کا مقرب ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ؎ (الرعد:۱۸) لیکن خصوصاً محسن سے وہ شخص مراد ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کا مقرب ہو اور اس سے خاص تعلق رکھنے والا ہو۔حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ احسان کیا ہے تو حضورؐ نے فرمایا کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی عبادت پورے طور پر بجالائے۔احسان کےمعنے پورے طور پر عبادت بجا لانے کے ہیں ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص کے سوال پر کہ مَا الْاِحْسَانُ احسان کیا چیز ہے؟ حضور نے فرمایا اَنْ تَعْبُدَاللہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنّہٗ یَرٰکَ۔( بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبرئیل النبی عن الایمان والاسلام و غیرھا) محسن وہ ہے جو ایسے رنگ میں عبادت کرے کہ گویا اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے اور اگر یہ مرتبہ اسے حاصل نہ ہو تو کم سے کم اسے یہ نظر آئے کہ خدا تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔آنحضرت صلعم کی حضرت یوسفؑ سے چودھویں مشابہت حضرت یوسف کی طرح آنحضرت ؐ بھی نکالے جانے کے بعد عزت پاگئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت یوسف علیہ السلام سے اس بارہ میں بھی مشابہت ہے جس طرح یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے گھر سے اس حسد سے نکالا تھا کہ بڑا ہونے کی خوابیں دیکھتا ہے اسے یہاں سے نکال دیں تو یہ ذلیل ہو جائے گا۔اور جو چیز لوگوں کو نفع دینے والی ہوتی ہے۔وہ زمین میں ٹھہری رہتی ہے۔