تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 462
قَالَ اجْعَلْنِيْ عَلٰى خَزَآىِٕنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّيْ حَفِيْظٌ عَلِيْمٌ۰۰۵۶ (اس پر یوسفؑ نے) کہا کہ مجھے (تو) ملک کے خزانوں پر( افسر) مقرر کر دیں کیونکہ میں یقیناً (خزانوں کی) بہترین حفاظت کرنے والا اور( ان کے خرچ کے وجوہ کو) خوب سمجھنے والا ہوں۔تفسیر۔حضرت یوسفؑ کی خزائن پرمتصرف ہونے کی خواہش کی وجہ انہوں نے سمجھا کہ اگر وزیر ہو گیا تو روز کے جھگڑے پڑے رہیں گے۔دوسرے اس لئے کہ اگر خزائن پر کوئی اور مقرر ہوا تو ممکن ہے کہ وہ حسد سے کام بگاڑ دے اور پھر الزام مجھ پر آئےکہ اس نے جو خواب کی تعبیر بتائی تھی وہ غلط نکلی اس لئے اپنے ہاتھ میں اس انتظام کو لینا چاہا۔سکیم کے تیار کرنے والے کے سپرد کام کیا جائے حضرت یوسفؑ کی اس خواہش سے ایک نصیحت حاصل ہوتی ہے کہ جو شخص کسی کام کی سکیم تیار کرے اگر وہ اس کام کے قابل ہو تو زیادہ مناسب یہ ہے کہ وہ کام اس کے سپرد کیا جائے۔حضرت یوسفؑ کے عہدہ مانگنے کے متعلق اعتراض کا جواب بعض لوگ اس جگہ اعتراض کرتے ہیں کہ عہدہ مانگنا نہیں چاہیے پھر حضرت یوسفؑ نے ایسا کیوں کیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے دراصل عہدہ مانگا نہیں بلکہ اس سوال سے انہوں نے اپنا عہدہ گرایا ہے کیونکہ بادشاہ تو انہیں وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر مقرر کرنے لگا تھا اور وہ قحط کے کام کا مطالبہ کرتے ہیں۔وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ١ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ اور اس طرح (مناسب حالات پیدا کر کے) ہم نے یوسفؑ کو (اس) ملک میں ایک بااختیار عہدہ عطا کیا۔وہ( اپنی يَشَآءُ١ؕ نُصِيْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مرضی کےمطابق )جہاں (کہیں) چاہتا ٹھہرتا۔ہم جسے چاہتے ہیں (اس دنیا میں ہی) اپنی رحمت سے( حصہ) الْمُحْسِنِيْنَ۰۰۵۷ دیتے ہیں اور ہم نیکو کاروں کااجر ضائع نہیں کیا کرتے۔حل لغات۔یَتَبَوَّاُ تَبَوَّأَ سے مضارع مذکر غائب کا صیغہ ہے جس کے معنے کسی جگہ کو اپنی جائے رہائش