تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 457

مطلوب چیز تک پہنچنے اور اسے پانے کے یعنے تمام اسباب اور ذرائع کا میسر آجانا اور ان کا مطلوب چیز تک پہنچا دینا۔یعنی کامیاب کرنا۔(تاج) تفسیر۔ذٰلِکَ لِیَعْلَمَ حضرت یوسف کا قول ہے یا عزیز کی بیوی کا اس قول کے متعلق اختلاف ہے کہ یہ کس کا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ عزیز کی بیوی کہتی ہے کہ میں نے غیبت میں یوسفؑ کی خیانت نہیں کی۔لیکن یہ فقرہ اس کے منہ سے بہت بھدا معلوم ہوتا ہے کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ اس نے خیانت کی ہے۔پس میرے نزدیک انہی لوگوں کا قول درست ہے جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قول حضرت یوسفؑ کا ہے اور مراد یہ ہے کہ میں نے بادشاہ کو دھوکا نہیں دیا۔یعنی کسی نہ کسی دن یہ امر بادشاہ کے سامنے آنا تھا۔اس وقت اسے یہ خیال ہوسکتا تھا کہ اس شخص نے مجھ سے ایسے امر کو پوشیدہ رکھ کر عہدہ لے لیا اس وجہ سے میں نے اس کا ازالہ کر دیا ہے۔اب کبھی بادشاہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے بادشاہ کو اصل حالات سے ناواقف رکھ کر دھوکا دیا ہے۔لِیَعْلَمَ کا فاعل کون ہے؟ یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ یَعْلَمُ کی ضمیر کو عزیز کی طرف پھیرا جائے اور مراد یہ لی جائے کہ عزیز یہ خیال نہ کرے کہ میں نے اس کی خیانت کی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یَعْلَمُ کی ضمیر بادشاہ کی طرف جاتی ہو اور لَمْ اَخُنْہُ کی ضمیر عزیز کی طرف اور مراد یہ ہو کہ بادشاہ جان لے کہ میں نے اپنے محسن عزیز کی خیانت نہیں کی تھی تاکہ آئندہ اسے شبہ نہ پیدا ہو کہ جس طرح اس محسن کی خیانت کی تھی ممکن ہے یہ میرا بھی خائن ہو۔حضرت یوسفؑ نے اپنے امین ہونے کا اظہار کیوں کیا تھا؟ معلوم ہوتا ہے حضرت یوسف علیہ السلام کو بذریعہ وحی علم ہو گیا تھا کہ وہ فلاں کام پر مامور کئے جائیں گے۔اس لئے آپ نے یہ برأت پہلے کرالی کہ آپ خائن نہیں ہیں تاکہ آئندہ آپ کے کام پر کوئی الزام نہ ہو۔اس آیت میں ہر ایک خائن کے اپنی خیانت میں ناکام رہنے کا ذکر نہیں آخری حصہ آیت سے یہ مراد ہے کہ ایسے خائن جو ان لوگوں کا مقابلہ کرتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ خاص کام لینا چاہتا ہے اور اَلْ جو خَائِنِیْنَ کے اوپر ہے ال عہد ذکری کا ہے یعنی جن کا ذکر پہلے ہوا ہے اور پہلے ذکر ایسے خائنوں کا ہوا ہے جنہوں نے یوسف علیہ السلام کے مقابلہ میں خیانت کی ہے جنہیں ایک خاص کام پر مقرر کرنے کا اللہ تعالیٰ فیصلہ کر چکا تھا۔پس یہ مراد نہیں کہ کوئی خائن اپنی خیانت میں کامیاب ہی نہیں ہوتا۔کئی لوگ خیانت کرتے ہیں اور اس دنیا میں ان کی خیانت چھپی رہتی ہے لیکن ایسے خائن کی خیانت کو اللہ تعالیٰ کبھی چھپا نہیں رہنے دیتا جو اس کے ماموروں کے مقابلہ میں خیانت کرتے ہیں۔