تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 450
ثُمَّ يَاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِيْهِ يُغَاثُ النَّاسُ وَ فِيْهِ يَعْصِرُوْنَؒ۰۰۵۰ پھر اس کے بعد ایک (ایسا) سال آئے گا جس میں لوگوں کی تنگی دور کی جائے گی اور وہ اس میں (دوسروں کو) عطیے دیں گے۔حلّ لُغَات۔عَامٌ۔اَلْعَامُ السَّنَۃُ۔سال ، وَفِی الْمِصْبَاحِ لَا تَفْرُقُ عَوَامُّ النَّاسِ بَیْنَ الْعَامِ وَالسَّنَۃِ اور مصباح میں ہے کہ عوام الناس عَام کے معنوں میں اور سَنَۃ کے معنوں میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔وَیَجْعَلُوْنَہُمَا بِمَعْنًی اور ان دونوں کو ہم معنے قرار دیتے ہیں۔فَیَقُوْلُوْنَ لِمَنْ سَافَرَ فِیْ وَقَتٍ مِّنَ السَّنَۃِ اَیَّ وَقْتٍ کَانَ الٰی مِثْلِہٖ عَامٌ مثلاً اگر کوئی شخص کسی سال کے دوران میں اور اس کے کسی حصہ میں سفر کرے اور بارہ مہینے کے بعد واپس آئے تو اس عرصہ کو بھی عَامٌ کہہ دیتے ہیں۔وَھُوَ غَلَـطٌ لیکن یہ استعمال صحیح نہیں۔اَلسَّنَۃُ مِنْ اَیِّ یَوْمٍ عَدَدْتَہٗ اِلَی مِثْلِہٖ۔سَنَۃٌ سے مراد ایک سال کا عرصہ ہوتا ہے۔خواہ کسی دن سے شمار کیا جائے۔وَالْعَامُ لَایَکُوْنُ اِلَّا شِتَاءً وَصَیْفًا۔اور عام سے مراد شمسی سال کے مقررہ مہینوں میں سے پہلے مہینہ کے شروع سے لے کر بارھویں مہینہ کے آخر تک کا عرصہ ہوتا ہے جس کا حساب صیف و شتا کو ملحوظ رکھ کر کیا جاتا ہے۔(اقرب) غَاثَ غَاثَ اللہُ الْبِلَادَ یَغِیْثُہَا غَیْثًا: اَنْزَلَ بِھَا الْغَیْثَ اَیْ الْمَطَرَ۔اللہ تعالیٰ نے ملک میں بارش نازل کی… وَغَاثَ یَغُوْثُ غَوْثًا۔اَعَانَہُ وَنَصَرَہُ۔اس کی مدد اور نصرت کی وَاَغَاثَنَا اللہُ بِالْمَطَرِکَشَفَ الشِّدَّۃَ عَنَّابِہٖ۔خدا تعالیٰ نے بارش کے ذریعہ سے ہماری تکلیف دور کی۔(اقرب) عَصَرَفُلَانًا: اَعْطَاہُ اَلْعَطِیَّۃَ۔(اقرب) تفسیر۔یُغَاثُ کا لفظ بارش کے لئے مخصوص نہیں اس آیت پر مسیحی مشنری اعتراض کیا کرتے ہیں کہ مصر کی شادابی کا انحصار بارش پر نہیں بلکہ دریائے نیل کی طغیانی پر ہے لیکن قرآن کریم میں لکھا ہے کہ قحط کے بعد بارش ہوگی اور لوگوں کی تکلیف دور ہوگی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ (نعوذباللہ) قرآن کریم کے نازل کرنے والے کو جغرافیہ کی موٹی باتوں کا بھی علم نہیں۔اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم میں یُغَاثُ النَّاسُ کے لفظ استعمال ہوئے ہیں اور یُغَاثُ صیغہ مجہول ہے جو غَاثَ یَغِیْثُ سے بھی بن سکتا ہے جس کے معنے بارش نازل کرنے کے ہیں اور غَاثَ یَغُوْثُ سے بھی بن سکتا ہے جس کے معنی مدد کرنے کے ہیں اور اَغَاثَ یَغِیْثُ سے بھی بن سکتا ہے جس کے معنی فریاد کو پہنچنے کے ہیں۔اور یُغَاثُ کے تینوں معنے ہوسکتے ہیں۔(۱) بارش برسائی جائے گی (۲) مدد کی