تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 426
الْاِسْکَنْدریَّۃِ۔مصر اورا سکندریہ کے حکمران کا لقب۔(اقرب) شَغَفَ شَغَفَ شَغْفًا اَصَابَ شَغَافَہٗ اس کے شغاف (یعنی اندرو ن د ل) میں جا پہنچا۔شَغِفَہُ حُبُّہٗ شَغَفًا عَلِقَ بِالشَّغَافِ۔اس کی محبت اس کے دل کے اندر چلی گئی اور پختہ طور پر پیوستہ ہو گئی۔اَلشَّغَافُ غِلَافُ الْقَلْبِ وَقِیْلَ حِجَابُہُ وَقِیْلَ سُوَیْدَاؤُہٗ۔شغاف کے معنے ہیں دل کا پردہ یا دل کا حجاب یا دل کا وسطی نقطہ۔(اقرب) اَلضَّلَالُ۔اَلضَّلَالُ۔اَلْہَلَاکُ تباہی۔اَلْفَضِیْحَۃُ رسوائی۔اَلْبَاطِلُ۔غلط بات۔ضِدُّ الْھُدٰی۔راہ یابی کے خلاف یعنی درست راہ سے دوری(اقرب) اِنَّکَ لَفِیْ ضَلَالِکَ الْقَدِیْمِ وَ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ۔اِشَارَۃً اِلَی شَغَفِہِ بِیُوْسُفَ وَ شَوْقِہٖ اِلَیْہِ۔وَکَذٰلِکَ قَدْ شَغَفَہَا حُبًّا۔اِنَّا لَنَرَاھَا فِیْ ضَلَالٍ مُّبِیْنٍ یعنی ان آیات میں ضلال سے مراد سخت اور پُرزور محبت و اشتیاق ہے۔(مفردات) تفسیر۔یہ عزیز بادشاہ نہیں تھا بلکہ بادشاہ کا حاجب تھا عزیز کا ترجمہ عزیز ہی کیا گیاہے۔کیونکہ آج کل کی اصطلاح میں عزیز مصر کے بادشاہ کو کہتے ہیں لیکن عورت مصر کے بادشاہ کی نہیں بلکہ اس کے حاجب کی بیوی تھی پس معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے وقت میں عزیز کا لفظ سرداران مصر کے متعلق بھی استعمال ہوتا تھا یا پھر عورتوں نے خوشامدانہ طور پر یہ لفظ استعمال کیا ہے جیسا کہ بڑے آدمیوں کو ان کے ماتحت بادشاہ وغیرہ کے الفاظ سے یاد کرلیتے ہیں۔ان عورتوں کا حضرت یوسفؑ کو بھی ملوث ظاہر کرنا جب یوسف علیہ السلام کو عزیز کی بیوی سے یہ واقعہ پیش آیا تو اس کا چرچا عزیز کے خاندان سے تعلق رکھنے والے گھرانوں میں بھی شروع ہو گیا۔بعض عورتیں جو معلوم ہوتا ہے کہ عزیز کی بیوی کی سہیلیاں تھیں جب انہیں یہ خبر پہنچی تو انہوں نے اس کا عام تذکرہ کرنا شروع کیا۔لیکن عزیز کی بیوی کو مزید بدنام کرنے کے لئے ایسے الفاظ میں تذکرہ شروع کیا جس سے یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کوئی کوشش کی تھی اور وہ ناکام رہی بلکہ یوں کہنا شروع کیا کہ گویا وہ فعل جاری ہے اور اس طرح گویا نتیجہ کو مشتبہ کرکے حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی ملوث قرار دیا۔شَغَفھا حُبًّا کے معنی قَدْ شَغَفَھَا حُبًّا میں حُبًّا تمیز ہے اور اس کا ترجمہ اسی طرح کریں گے جس طرح طَابَ مُحَمَّدٌ نَفْسًا کا کرتے ہیں یعنی جس طرح وہاں طَابَ مُحَمَّدٌ نَفْسُہٗ مراد ہوتا ہے اسی طرح یعنی شَغَفَہَا حُبُّہٗ مراد لیا جائے گا اور معنے یہ ہوں گے کہ یوسف کی محبت اس کے دل کے پردوں میں گھس گئی ہے یعنی وہ شدید محبت میں مبتلا ہو گئی ہے کہ اب اسے چنداں بدنامی کا بھی ڈر نہیںرہا۔