تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 400
بھائیوں نے پہلے مشورہ کیا اور مشورہ کے بعد وہ یوسف علیہ السلام کو باہر لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔مگر بائبل کہتی ہے کہ انہوں نے اچانک یوسفؑ کو آتے دیکھا تو فوراً قتل کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔چنانچہ بائبل میں لکھا ہے ’’اور جونہی انہوں نے اسے دور سے دیکھا اس سے پہلے کہ وہ نزدیک پہنچے اس کے قتل کا منصوبہ باندھا اور ایک نے دوسرے سے کہا دیکھو یہ صاحبِ خواب آتا ہے سو آؤ ہم اب اسے مار ڈالیں۔اور کسی کنوئیں میں ڈال دیں اور کہیں کہ کوئی برا درندہ اسے کھا گیا اور دیکھیں کہ اس کے خوابوں کا انجام کیا ہوگا۔(پیدائش باب۳۷ آیت ۱۸ لغایت ۲۰) جرائم کی تحقیقات کرنے والے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ اس اختلاف میں قرآن مجید کا بیان ہی قرین قیاس ہے۔یونہی کھڑے کھڑے یکدم قتل کرنے کو تیار ہو جانا یا عادی ڈاکوؤں کا کام ہے یا پاگلوں کا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جو اپنے گھر میں شریفانہ زندگی بسر کرتے تھے وہ یکایک ایسے بھیانک فعل کے لئے تیار نہیں ہوسکتے تھے۔پس ان کا اس طرح قتل کے لئے آمادہ ہو جانا بتلاتا ہے کہ وہ پہلے مشورہ کرچکے تھے۔فوراً تحریک کرنے والے کو کیا یہ ڈر نہ آتا کہ اتنی بڑی بات میں اگر بھائی ہم خیال نہ ہوئے تو میرا کیا حشر ہوگا۔ان کا قول وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَکہ محرک جرم جب راستہ سے ہٹ جائے گا تو پھر تم نیک ہو جاؤ گے بھی بتا رہا ہے کہ وہ عادی مجرم نہ تھے اور ان کی فطرت اس کام کو ناپسند کرتی تھی۔پس عقل کی رو سے قرآن مجید کا بیان ہی صحیح اور واقعات کے مطابق ہے۔آنحضرتؐ اور حضرت یوسفؑ میں چھٹی مماثلت حضرت یوسف ؑ کی طرح آنحضرت ؐ کے خلاف قتل کا منصوبہ وغیرہ اس منصوبۂ قتل میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت یوسف علیہ السلام سے مشابہت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ يَمْكُرُوْنَ وَ يَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ۔(الانفال :۳۱) یعنی یاد کر جبکہ دشمن منصوبے کرتے تھے کہ تجھے کہیں قید کر دیں یا قتل کردیں یا تجھے نکال دیں اور وہ اب بھی ایسے منصوبے کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی پختہ تدبیریں کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر زیادہ اچھی ہوتی ہے۔پس جس طرح یوسف علیہ السلام کی نسبت قتل اور کسی دوسرے علاقہ میں پھینک دینے کا منصوبہ کیا گیا تھا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے متعلق بھی منصوبہ کیا گیا۔