تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 399
الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ۔(الزخرف:۳۲) اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں یہ قرآن مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر نازل نہ ہوا۔یعنی انہیں حسد آتا ہے کہ اس کمزور آدمی کو خدا تعالیٰ نے کیوں اپنے فضل کے لئے چن لیا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ (الزخرف:۳۳) کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت کو خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ یعنے چاہیے تو یہ تھا کہ ہمارے کاموں کی وجہ سے ہم سے پیار کیا جاتا۔یوسفؑ چھوٹا اور نکما ہے اس سے محبت کرنا اور ہم سے نہ کرنا صریح غلطی ہے۔یہ بات بتارہی ہے کہ ان کو اس کے خلاف سخت غصہ تھا۔ا۟قْتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ (اس لئے یا تو) یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی اور ملک میں (دور) پھینک دو( ایسا کرو گے تو) تمہارے باپ کی توجہ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ۰۰۱۰ تمہارے لئےفارغ ہو جائے گی اور (اس فعل سے ڈرنے کی وجہ نہیں) اس کے بعد (توبہ کر کے) تم (پھر )ایک نیک گروہ ہو جاؤ گے۔حلّ لُغَات۔صَلَحَ الشَّیْءُ یَصْلُحُ وَیَصْلَحُ صَلَاحًا وَصُلُوْحًا وَصَلَاحِیَۃً ضِدُّ فَسَدَ اَوْزَالَ عَنْہُ الْفَسَادُ۔یُقَالُ صَلُحَتْ حَالُ فُلَانٍ۔درست اور ٹھیک ہو گیا۔اس کی خرابی اور بدحالی دور ہو گئی۔الرَّجُلُ فِی عَمَلِہٖ لَزِمَ الصَّلَاحَ۔نیکوکار ہو گیا۔(اقرب) تفسیر۔نیک صحبت کا اثر نیک صحبت کس طرح دل پر اثر کرتی ہے۔ایک خطرناک جرم کا ارتکاب کرنے لگے ہیں لیکن پھر بھی گناہ کا خوف دل میں ہے اور اس خوف کا اثر دل سے مٹانے کے لئے یہ بہانہ تلاش کرتے ہیں کہ پھر توبہ کرلیں گے۔نفس کا ایک خطرناک دھوکہ یہ دھوکا بہت سے لوگوں کو لگا ہوا ہوتا ہے۔وہ خیال کرتے ہیں کہ پھر توبہ کر لیں گے حالانکہ زندگی کا اعتبار کیا؟ خواہ کس قدر پختہ نیت بھی توبہ کرنے کی ہو لیکن موت آجائے یا دماغ میں فتور آجائے یا عادت پڑ جائے تو پھر توبہ کا ارادہ کس طرح پورا ہوسکتا ہے۔قرآن مجید اور بائبل کے بیانات اس واقعہ میں بھی مختلف ہیں۔قرآن کریم سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوسفؑ کے