تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 398
ِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِيْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ (یعنی اس وقت کے واقعات میں) جب انہوں نے (یعنی یوسف کے بھائیوں نے ایک دوسرے سے) کہا( کہ) عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِۚۖ۰۰۹ یوسف اور اس کا بھائی یقیناًہماری نسبت ہمارے باپ کو زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک منضبط جماعت ہیں (اس معاملہ میں) ہمارا باپ یقیناً (کھلی) کھلی غلطی میں (پھنسا ہوا) ہے۔حلّ لُغَات۔عُصْبَۃٌ اَلْعُصْبَۃُ مِنَ الرِّجَالِ وَالْخَیْلِ وَالطَّیْرِ الْعِصَابَۃُ۔وَالْعِصَابَۃُ اَلْجَمَاعَۃُ مِنَ الرِّجَالِ وَمِنَ الْخَیْلِ وَمِنَ الطَّیْرِ۔وَقِیْلَ الْعَشَرَۃُ وَقِیْلَ مَابَیْنَ الْعَشَرَۃِ اِلَی الْاَرْبَعِیْن۔عُصْبَۃٌ کے وہی معنے ہیں جو عِصَابَۃٌ کے ہیں۔یعنی مطلق جماعت اور بعض کے نزدیک دس افراد کی جماعت اور بعض کے نزدیک دس سے لے کر چالیس تک کے افراد کی جماعت۔(اقرب) مفسرین نے عشرہ والے معنے کو ترجیح دی ہے کیونکہ وہ دس ہی تھے۔عُصْبَۃٌ میں طاقت کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔یہ لفظ عصب سے نکلا ہے۔گویا وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کام کرنے والے ہم، کمانے والے ہم مگر پیار کے لئے باپ کو یوسفؑ اور اس کا بھائی۔آنحضرت ؐ اور حضرت یوسف ؑ میں پانچویں مشابہت تفسیر۔یوسف ؑکی طرح آنحضرت ؐ پر لوگوں کا حسد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ بھی یہی واقعہ کئی رنگ میں پیش آیا ہے۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے چچا زید ابن نفیل جو یہودی علماء سے توحید کا علم حاصل کرچکے تھے اسلام کے آنے سے پہلے شرک کے خلاف وعظ کیا کرتے تھے۔ان سے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ شرک کے خلاف وعظ تو میں کرتا رہا ہوں اگر کچھ بننا ہوتا تو میں بنتا۔یہ شخص نبی کس طرح بن گیا(بخاری کتاب المناقب و سیرۃ النبی لابن ہشام )۔یہی اعتراض آپؐ کی نبوت پر یہود و نصاریٰ کو تھا۔کیونکہ وہ بھی یہی کہتے تھے کہ خدا کے دین کے حامل تو ہم ہیں یہ انعام کا مستحق کس طرح ہو گیا۔بلکہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل مکہ کے دلوں میں بھی یہ خیال عام تھا کہ ہم میں سے جو بڑے لوگ ہیں ان پر یہ کلام کیوں نازل نہ ہوا۔چنانچہ سورہ زخرف میں فرماتا ہے وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ