تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 389
تفسیر۔یوسف ؑکے واقعہ کے متعلق دنیا میں اختلاف تھا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یوسفؑ کے واقعہ کے متعلق دنیا میں اختلاف تھا اور قرآن کریم دعویٰ کرتا ہے کہ وہ اس اختلاف کا فیصلہ کرے گا اور جو اصل واقعہ ہے اس کے چہرہ پر سے باطل کا نقاب اٹھاو ے گا۔تبھی تو فرماتا ہے کہ ہم بے کم و کاست اصل واقعہ بیان کریں گے۔اگر دنیا میں یہ واقعہ مشتبہ نہ ہوتا تو ان الفاظ کے استعمال کی ضرورت ہی کیا تھی۔مگر تعجب ہے یوروپین محققین پر جنہوں نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ حضرت یوسفؑ کا واقعہ قرآن کریم سے پہلے ہی مختلف فیہ ہوچکا تھا اور تاریخی طور پر مجروح ہو گیا تھا اور صرف اس امر کو دیکھ کر کہ قرآن کریم میں یہ واقعہ بائبل سے مختلف طور پر بیان ہوا ہے اس پر حملہ کر دیا ہے۔واقعہ یوسف کے پیش نظر برنکمین کا قرآن کریم پر حملہ اور اس کا جواب چنانچہ ایک مشہور جرمن برنکمین نے نوٹس آن اسلام صفحہ ۱۱۲ پر لکھا ہے کہ ایک مسلمان پر قرآن کو بائبل سے ادنیٰ ثابت کرنے کا بہترین ذریعہ یہی ہے کہ اس کے سامنے دونوں کتابوں میں سے یوسف کے واقعہ کو پیش کر دیا جائے۔قرآن شریف نے ایک خوبصورت اور دردانگیز واقعہ کو نہایت خراب اور بدنما صورت میں پیش کیا ہے۔اس اعتراض نے درحقیقت قرآن کریم کی سچائی کوثابت کر دیا ہے۔کیونکہ اس کا یہ دعویٰ کہ ہم بلاکم و کاست بیان کریں گے ثابت کرتا ہے کہ قرآن کریم کا نازل کرنے والا جانتا تھا کہ لوگ اس کے بیان کردہ واقعات پر اعتراض کریں گے۔باقی رہا برنکمین صاحب کا یہ اعتراض کہ قرآن کریم نے ایک خوبصورت واقعہ کو خراب شکل میں پیش کیا ہے سو اس کا جواب اگلی آیتوں میں آجائے گا اور پڑھنے والوں کو خود معلوم ہو جائے گا کہ کس نے واقعہ کو بدنما صورت میں پیش کیا ہے۔بِمَاۤ اَوْحَيْنَاۤ اِلَیْکَ کے معنی اور یہ جو فرمایا کہ اس واقعہ کے بے کم و کاست بیان کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تیری طرف قرآن کریم نازل کیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہونے والا تھا۔کیونکہ قرآن کریم کے نزول کے ساتھ یوسف علیہ السلام کے قصہ کے بیان کرنے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ہاں اس امر کا ضرور تعلق ہے کہ ان پیشگوئیوں کو بیان کیا جائے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہیں تاکہ لوگوں کو قرآن کریم کی وحی پر اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر یقین حاصل ہو۔دوسرے یہ معنے ہوسکتے ہیں کہ حامل قرآن نے چونکہ مثیل یوسف ہونا تھا اس وجہ سے ضروری تھا کہ اسے اس کے حالات زندگی بتائے جائیں۔مِنَ الْغٰفِلِيْنَ میں کس بات سے بے خبری کی طرف اشارہ ہے اور یہ جو فرمایا ہے کہ تو اس سے پہلے