تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 363

نے کہا کذَبْتَ تو نے جھوٹ بولا۔اس پر اس نے یہی آیت پڑھی اور کہا کہ انسان اختلاف کے لئے پیدا کئے گئے ہیں مگر طاؤس نے جواب دیا خَلَقَھُمْ لِلرَّحْمَۃِ وَالْجَمَاعَۃِ۔یعنی اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے رحم اور اتفاق کے لئے پیدا کیا ہے۔ابن کثیر میں ہے کہ مجاہد، ضحاک او ر قتادہ کا بھی یہی مذہب تھا کہ ’’ذَالِکَ‘‘ کا اشارہ رحم کی طرف ہے۔اور درمنثور میں لکھا ہے کہ ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ لِلرَّحْمَۃِ خَلَقَھُمْ۔ابن ابی حاتم نے عکرمہ اور قتادہ سے روایت کی ہے کہ ’’ لِلرَّحْمۃِ وَالْعِبَادَۃِ ‘‘ کہ رحمت اور عبادت کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر کچھ انسان بھی ہمیشہ ہمیش کے لئے دوزخ میں پڑے رہیں تو ان کی پیدائش رحمت کے لئے قرار نہیں دی جاسکتی۔اور اس صورت میں نعوذباللہ یہ آیت غلط ہوجائے گی۔(۳) تیسرا ثبوت جنت کے متعلق کئی دوسرے مقامات پر فرمایا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی جیسے فرمایا فَلَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ۔(التین:۷)لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ ( انشقاق:۲۶) لَهُمْ اَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُوْنٍ (حٰمٓ سجدۃ:۹) لیکن دوزخ کے متعلق ایسا کہیں نہیں فرمایا جس سے معلوم ہو کہ جنت کی جزا اور دوزخ کی سزا میں فرق ہے۔(۴)چوتھا ثبوت۔اعراف ع۱۹ میں فرمایا ہے عَذَابِيْۤ اُصِيْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِيْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَ يُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْنَ(الاعراف:۱۵۷)۔میں اپنا عذاب تو جس کو چاہوں گا پہنچاؤں گا۔اور میری رحمت ہر اک چیز پر وسیع ہے۔پس میں اسے بطور حق کے ان لوگوں کے لئے لکھ دوں گا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو لوگ کہ ہمارے نشانوں پر ایمان لاتے ہیں۔اس آیت سے سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔عذاب ایک درمیانی چیز ہے۔جن کو وہ عذاب دے گا ان کو بھی آخر اپنی رحمت سے ڈھانپ لے گا۔عذاب کو محدود لوگوں کے لئے بناکر رحمت کو نہ صرف سب انسانوں بلکہ سب اشیاء کے لئے عام کرنا بالکل واضح کر دیتا ہے کہ اہلِ دوزخ کا عذاب بھی ختم ہو جائے گا۔ورنہ ’’کُلَّ شَیْءٍ‘‘ غلط ہوجاتا ہے۔سورہ مومن میں بھی اس مضمون کی ایک آیت ہے فرماتا ہے ’’رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا۔‘‘ (مومن :۸) اے خدا تو ہر چیز کا اپنی رحمت اور علم کے ذریعہ سے احاطہ کئے ہوئے ہے۔اب اگر بعض لوگ ہمیشہ کے لئے عذاب میں رہ کر رحمت الٰہی سے محروم ہوسکتے ہیں تو پھر یہ بھی ممکن ہونا چاہیےکہ بعض چیزیں خدا کے علم سے بھی نکل سکیں۔کیونکہ علم اور رحمت کا ذکر ایک ساتھ فرمایا ہے۔مگر یہ امر بالبداہت غلط ہے۔پس اسی طرح بعض لوگوں کا رحمت سے ابدی طور پر محروم ہونا بھی بالبداہت غلط ہے۔