تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 344

الْمُصْلِحِيْنَ۔(القصص :۱۹۔۲۰) حضرت شعیب کی لڑکیوں کے گلّے کو پانی پلانے کا واقعہ (۴)بائبل کہتی ہے کہ جب حضرت موسیٰ ؑ فرعون سے بھاگ کر مدین پہنچے تو انہیں مندرجہ ذیل واقعہ پیش آیا ’’اور مدیان کے کاہن کی سات بیٹیاں تھیں۔وہ آئیں اور پانی نکالنے لگیں اور گھڑوں کو بھرا۔تاکہ اپنے باپ کے گلے کو پانی پلائیں۔تب گڈریوں نے آ کے انہیں ہانکا لیکن موسیٰ نے کھڑے ہوکر ان لڑکیوں کی مدد کی اور ان کے گلے کو پانی پلایا۔‘‘ (خروج باب۲ آیت ۱۶،۱۷) مگر قرآن مجید کا بیان اس سے مختلف ہے۔قرآن مجید اس واقعہ کو یوں بیان فرماتا ہےوَ لَمَّا وَرَدَ مَآءَ مَدْيَنَ وَجَدَ عَلَيْهِ اُمَّةً مِّنَ النَّاسِ يَسْقُوْنَ١ٞ وَ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمُ امْرَاَتَيْنِ تَذُوْدٰنِ١ۚ قَالَ مَا خَطْبُكُمَا١ؕ قَالَتَا لَا نَسْقِيْ حَتّٰى يُصْدِرَ الرِّعَآءُ١ٚ وَ اَبُوْنَا شَيْخٌ كَبِيْرٌ۔فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّيْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيْرٌ۔(القصص :۲۴۔۲۵) کہ جب حضرت موسیٰ ؑ مدین کے پانی پر وارد ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک گروہ (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا ہے۔اور دو لڑکیاں اپنے گلّے کو پرے روکے کھڑی ہیں۔حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے پوچھا تم الگ کیوں کھڑی ہو۔انہوں نے جواب دیا کہ جب چرواہے چلے جائیں گے تب ہم پانی پلا سکیں گی۔کیونکہ ہمارا باپ بوڑھا اور عمر رسیدہ ہے۔اس جگہ پر قرآن مجید کی تعلیم کیا ہی اعلیٰ اخلاق والی اور پاکیزہ ہے۔وہ بتاتا ہے کہ ان لڑکیوں کا پرے رہنا ان کی شرم کی وجہ سے تھا۔اس بیان میں قرآن مجید تورات سے کئی باتوں میں اختلاف کرتا ہے۔(الف) بائبل کہتی ہے مدین کے کاہن کی سات بیٹیاں پانی پر آئیں اور قرآن مجید فرماتا ہے دو لڑکیاں آئی تھیں۔(ب) بائبل کہتی ہے لڑکیوں نے گھڑوں کو پانی سے بھرا اور چرواہوں نے آکر ان کو روکا اور قرآن مجید فرماتا ہے وہ لڑکیاں آگے نہیں بڑھیں بلکہ شرم کے مارے گلے کو روکے کھڑی رہیں۔(ج) بائبل کہتی ہے حضرت موسیٰ ؑ نے گڈریوں کا مقابلہ کیا اور لڑکیوں کی مدد کی اور ان کے جانوروں کو پانی پلایا اور قرآن مجید فرماتا ہے مقابلہ وغیرہ کوئی نہیں ہوا ہاں حضرت موسیٰ ؑ نے اسی دوران میں ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا۔کیا حضرت موسیٰ ؑنے فرعون کو دھوکہ دے کر بنی اسرائیل کو نکالا تھا؟ (۵)بائبل کے بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کہا کہ بنی اسرائیل کو سرزمین مصر سے نکال لا۔مگر شاہ مصر کو نہ بتلانا کہ ہم بھاگ رہے ہیں۔بلکہ لکھا ہے کہ’’ تو اور اسرائیلیوں کے بزرگ مصر کے بادشاہ کے پاس آئیو اور اسے کہیئو کہ