تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 340
وَ يٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّيْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ اور اے میری قوم تم اپنی جگہ پر (اپنے) کام کئے جاؤ۔میں(بھی اپنی جگہ پر) یقیناً کام کر رہا ہوں۔عنقریب تمہیں تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ معلوم ہو جائے گا کہ وہ کون ہے جس پر وہ عذاب آتا ہے۔جو اسے رسوا کر دے گا اور کون جھوٹا ہے اور تم( بھی اپنے وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّيْ مَعَكُمْ رَقِيْبٌ۰۰۹۴ اور میرے انجام کا) انتظار کرو میں (بھی) یقیناً تمہارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔حلّ لُغَات۔مَکَانَۃٌ۔اَلْمَکَانَۃٌ اَلْمَوْضِعُ۔وَالْمَنْزِلَۃُ۔جگہ اور درجہ (اقرب) اِرْتَقَبَ اِرْتَقَبَ فُلَانًا وَالشَّیْءَ اِنْتَظَرَہٗ۔فلاں شخص یا فلاں چیز کا انتظار کیا۔(اقرب) رَقِیْبٌ اَلرَّقِیْبُ مِنْ صِفَاتِ اللہِ تَعَالٰی۔اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے اور اس جگہ معنی ہیں اَلْحَافِظُ نگراں اَلْمُنْتَظِرُ۔منتظر الحَارِسُ پہرہ دار اِبْنُ الْعَمِّ چچا کا بیٹا۔رَقِیْبُ الْجَیْشِ۔طَلِیْعَتُھُمْ۔راستہ کے آگے آگے چلنے والا جو راستہ کی حالت اور اس کے خطرات کی خبر لیتا چلا جاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔یعنی تم اپنے مقام کے لحاظ سے عمل کرتے جاؤ۔میں اپنی روش کے مطابق عمل کرتا چلا جاؤں گا۔آخر نتائج بتا دیں گے کہ کون اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق عمل کررہا تھا اور کون اس کے خلاف۔نبی ہمیشہ یہی کہتے چلے آئے ہیں کہ خدا پر فیصلہ چھوڑو اور انتظار کرو۔مگر لوگ ہمیشہ اپنے ہاتھ میں ہی فیصلہ رکھتے ہیں۔خدا تعالیٰ پر نہیں چھوڑتے اور آخر اس کی سزا بھگتتے ہیں۔اِنِّيْ مَعَكُمْ رَقِيْبٌ میں بتایا ہے کہ چاہیےتو یہ تھا کہ میں گھبراتا کیونکہ میں مصیبت میں ہوں۔میرے ساتھیوں کو تم تکلیفیں دیتے ہو لیکن گھبرا تم رہے ہو۔حالانکہ چاہیےیہ کہ ہم دونوں خدا کے فیصلے کا انتظار کریں۔وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا شُعَيْبًا وَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ اور جب ہمارا( عذاب کا) حکم آگیا تو ہم نے شعیب کو اور ان (لوگوں) کو جو اس کے ساتھ( یگانگت اختیار کرتے