تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 339
قَالَ يٰقَوْمِ اَرَهْطِيْۤ اَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ۠ اس نے کہا اے میری قوم کیا میرا گروہ اللہ تعالیٰ کی نسبت تمہاری نظر میں زیادہ قابل عزت ہے اور اسے وَرَآءَكُمْ ظِهْرِيًّا١ؕ اِنَّ رَبِّيْ بِمَاتَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۰۰۹۳ تم نے بھلاتے ہوئے بالکل پیٹھ کے پیچھے کیا ہوا ہے۔جو کچھ تم کرتے ہو اسے میرا رب یقیناً خوب جانتاہے۔تفسیر۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غیرت اللہ کا ایک نمونہ ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایسے کئی مواقع پیش آئے ہیں۔اور آپ نے ان مواقع پر اپنی شان کے مطابق محبت الٰہی کے نظارے دکھائے ہیں۔مثلاً احد کے موقع پر جب اسلامی لشکر پراگندہ ہو گیا اور صرف چند آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور یہ خبر مشہور ہو گئی کہ آپ قتل ہو گئے۔اس وقت ابوسفیان نے آواز دے کر پکارا۔کہ اے مسلمانو! ہم نے تمہارے رسول کو مار دیا ہے۔گو یہ بات غلط تھی مگر موقع کی نزاکت کو دیکھ کر آپ نے جواب دینے سے روک دیا تادشمن اس پراگندگی سے فائدہ اٹھا کر دوبارہ حملہ نہ کردے اس کے بعد ابوسفیان نے کہا کہ اگر ابوبکر ہے تو بولے آپ نے ان کو بھی روک دیا۔اس پر اس نے نعرہ لگایا کہ ہم نے اسے بھی مار دیا ہے۔پھر اس نے کہا کہ عمر کہاں ہیں۔حضرت عمر نے جوش میں آکر کہا کہ عمر تمہارا سر کچلنے کو موجود ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بھی بولتے بولتے روک دیا۔اس پر ابوسفیان نے بڑے زور سے نعرہ لگایا کہ اُعْلُ ھُبَلْ اُعْلُ ھُبَلْ کہ ھبل کی شان بلند ہو یعنی ہمارے بت جیت گئے۔اس کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم برداشت نہ کرسکے اور فرمایا کہ اب کیوں نہیں بولتے۔کہو اَللہُ اَعْلیٰ وَ اَجَلُّ۔اللہ ہی سب سے بلند و برتر اور سب سے زیادہ شوکت والا ہے۔دشمن کے نرغہ میں گھرے ہوئے اور جب سب لشکر پراگندہ ہو چکا تھا خدا تعالیٰ کی شان کے خلاف لفظ سن کر آپ کس طرح بے تاب ہو گئے۔اِنَّ رَبِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ اس فقرہ کے ساتھ ان کو ڈرایا ہے کہ خدا تعالیٰ اس غیرت میں آکر کہ تم نے میری قوم کو اس سے زیادہ سمجھا کہیں تمہارے اعمال کو تباہ کرکے تم پر عذاب نہ نازل کردے اور یہ تجارتیں وغیرہ سب برباد ہو جائیں۔اور تم لوگ کنگال ہو جاؤ۔