تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 338
اَرَاھِیْطُ ہے۔قرآن کریم میں ان معنوں میں یہ لفظ آیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے تِسْعَۃُ رَھْطٍ یعنی نو افراد (اقرب) اَلْعَزِیْزُ۔اَلْعَزِیْزُ الشَّرِیْفُ عزت والا۔اَلْقَوِیُّ۔مضبوط۔اَلْقَلِیْلُ النَّادِرُ لَا یَکَادُ یُوْجَدُ۔نادر الوجود جس کی مثل ملنی مشکل ہو۔اَلْمُکَرَّمُ معزز۔وَجَمْعُہٗ عِزَازٌ واعِزَّةٌ واَعِزَّاءُ اور اس کی جمع عِزَازٌ۔اَعِزَّۃٌ اور اَعِزَّاءُ ہے۔وَالْعَزِیْزُ اَیْضًا مِنَ اَسْمَاءِ اللہِ تَعَالیٰ وَھُوَ الْمَنِیْعُ الَّذِیْ لَا یُنَال وَلَایُغَالَبُ وَلَا یُعْجِزُہُ الشَّیْءُ وَلَا مِثْلَ لَہٗ اور یہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بھی ہے اور اس کے معنی ہیں وہ ہستی کہ جس تک پہنچنا تمام طاقت سے بالا ہے اور جس پر کوئی غالب نہیں آسکتا۔نہ اسے اس کے کام سے کوئی چیز روک سکتی ہے اور اس کی کوئی مثل نہیں اَلْمَلِکُ لِغَلَبَتِہٖ عَلَی اَھْلِ مَمْلِکَتِہٖ۔بادشاہ کو بھی عزیز کہتے ہیں کیونکہ اسے اپنی رعایا پر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔لَقَبٌ مِنْ مَلَکَ مِصْرَ مَعَ الْإِسْکَنْدَرِیَّہِ وہ بادشاہ جو مصر اور سکندریہ دونوں کا بادشاہ ہو اسے بھی عزیز کہتے ہیں۔(اقرب) قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ فراعنہ کے زمانہ میں وزیر مالیہ کو بھی عزیز کہتے تھے۔ظِھْرِیٌّ۔اَلظِّھْرِیُّ الَّذِیْ تَجْعَلُہٗ وَرَآءَ ظَھْرِکَ وَتَنْسَاہُ وَتَغْفُلُہٗ۔جسے تو اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دے اور اسے بھول جائے اور اس سے غافل ہو جائے۔(اقرب) تفسیر۔انبیاء کی خدا کے لئے غیرت نبی کی غیرت کو دیکھو اور کوئی ہوتا تو خوش ہوتا کہ میری قوم ایسی مضبوط ہے کہ اس کی وجہ سے میری حفاظت ہورہی ہے اور شاید اس امر پر اور زور دیتا کہ مجھے چھیڑ کر دیکھو تو سہی کہ میری قوم تم سے کیسا سلوک کرتی ہے۔لیکن حضرت شعیب علیہ السلام الٹے ناراض ہوتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ کیا میری قوم خدا تعالیٰ سے بڑی ہے کہ تمہیں اس کا لحاظ ہے مگر خدا تعالیٰ کا نہیں؟ میری قوم کے ڈر سے مجھے کچھ نہیں کہنا چاہتے۔لیکن خدا کا خوف نہیں کرتے اور دھوکے اور لوٹ سے باز نہیں آتے۔اس جوش میں حضرت شعیب علیہ السلام اس امر کا بھی خیال نہیں کرتے کہ اس طرح وہ اپنی قوم کی تحقیر کرکے اسے بھی غصہ دلا رہے ہیں۔صرف ایک ہی بات ان کے خیالات پر حاوی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی عزت کا مقام ہے۔