تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 337

خدا تعالیٰ کی طرف لوٹنا چاہتا ہے تو پہلے اس میں محاسبہ کا مادہ پیدا ہوتا ہے یعنی وہ اپنے نفس کا مطالعہ کرکے اس کی غلطیوں کو پکڑتا ہے تب اس میں ندامت پیدا ہوتی ہے اس کے بعد وہ استعاذہ کرتا ہے۔یعنی ان گناہوں کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے بھی مدد لیتا ہے اس کے بعد وہ استغفار کرتا ہے یعنی پچھلے گناہوں کے بداثرات سے محفوظ رہنے کی دعا کرتا ہے۔اس کے بعد وہ توبہ کرتا ہے یعنی پوری توجہ سے اللہ تعالیٰ کی محبت میں لگ جاتا ہے۔اور اس سے اپنا پیوند جوڑ لیتا ہے۔غرض توبہ کے معنی منہ سے معافی مانگنے کے ہرگز نہیں ہوتے۔بلکہ یہ بدی سے نیکی کی طرف آنے یا نیکی کے کسی مقام سے اس کے دوسرے مقام کی طرف جانے کی منزلوں میں سے ایک منزل کا نام ہے اور توبہ پر اس تشریح کے بعد اعتراض کوئی علم النفس سے جاہل انسان ہی کرسکتا ہے۔یاد رہے کہ جو مدارج میں نے اوپر بیان کئے ہیں یہ سب اور ان سے زیادہ قرآن کریم میں مذکور ہیں یہاں اختصار کی غرض سے تفصیلاً ان کا ذکر نہیں کیا گیا۔قَالُوْا يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا انہوں نے کہا اے شعیب جو کچھ تو کہتا ہے اس میں سے بہت سا (حصہ) ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔اور ہم تجھے اپنے لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١ٞ وَ مَاۤ درمیان یقیناً یقیناً ایک کمزور( آدمی) سمجھتے ہیں اور اگر تیرا گروہ نہ ہوتا تو ہم تجھے سنگسار کر دیتے۔اور تو(بذات خود) اَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيْزٍ۰۰۹۲ ہماری نظر میں کوئی قابل عزت( وجود) نہیں ہے۔حلّ لُغَات۔رَھْطٌ اَلرَّھْطُ قَوْمُ الرَّجُلِ وَقَبِیْلَتُہٗ آدمی کی قوم اور اس کا قبیلہ وَعَدَدٌ یُجْمَعُ مِنَ الثَّلَاثَۃِ اِلَی الْعَشَرَۃِ وَلَیْسَ فِیْہِمْ اِمْرَءَ ۃٌ وَلَا وَاحِدَ لَہٗ مِنْ لَفْظِہٖ۔وَجَمْعُہٗ اَرْھَطٌ وَارْھَاطٌ۔وَجَمْعُہَا اَرَاھِطُ وَاَرَاھِیْطُ وَ ِفی الْقُرْاٰنِ۔وَکَانَ فِی الْمَدِیْنَۃِ تِسْعَۃُ رَھْطٍ۔اَیْ تِسْعَۃُ اَنْفُسٍ۔یعنی رہط کے معنی اتنی تعداد کے افراد کے ہوتے ہیں جس میں تین سے لے کر دس تک وجود شامل ہوں۔بشرطیکہ ان میں عورت کوئی نہ ہو۔سب مرد ہوں۔اور اس لفظ کا واحد کوئی نہیں آتا۔اور اس کی جمع اَرْھَطٌ اور اَرْھَاطٌ ہے اور جمع الجمع اَرَاھِطُ اور