تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 336

جائے۔وَفُسِّرَ اَیْضًا بِلَا یَحْمِلَنَّکُمْ اور اس کے معنی آمادہ کرنے کے بھی کئے گئے ہیں۔(اقرب) اَصْلُ الْجَرْمِ قَطْعُ الثَّمَرَۃِ عَنِ الشَّجَرِ۔جَرْم کے اصل معنی درخت سے پھل توڑنے کے ہیں۔وَاسْتُعِیْرَ ذٰلِکَ لِکُلّ اِکْتِسَابٍ مَکْرُوْہٍ اور پھر بطور توسیع و استعارہ اسے ہرناپسندیدہ کمائی کے لئے استعمال کیا جانے لگا ہے۔وَمَعْنٰی جَرَمَ کَسَبَ أَوْجَنَی اور جرم کے معنی کمانے یا پھل توڑنے کے یا کسی جرم کا ارتکاب کرنے کے ہیں۔(مفردات) تفسیر۔حضرت شعیب کے زمانہ کی تعیین اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب نوح ہود صالح ابراہیم اور لوط علیہم السلام کے بعد گزرے ہیں۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ سے پہلے کیونکہ ان کی قوم کا کوئی ذکر نہیں۔حالانکہ موسیٰ علیہ السلام اسی علاقہ میں اپنی قوم کو لاکر رہے ہیں کہ جس میں ان کی قوم بستی تھی۔وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَيْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّيْ رَحِيْمٌ اور تم اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔(اور) پھر اس کی طرف کامل رجوع اختیار کرو میرا رب یقیناً بار بار رحم کرنے وَّدُوْدٌ۰۰۹۱ والا( اور) بہت ہی محبت کرنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔وَدُوْدٌ۔اَلْوَدُوْدُ الْکَثِیْرُ الْحُبِّ۔بہت محبت کرنے والا۔فَعُوْلٌ بِمَعْنَی الْفَاعِلِ یُقَالُ ھُوَ وَدُوْدٌ وَھِیَ وَدُوْدٌ۔یہ لفظ فعول کے وزن پر ہے اور مبالغۂ فاعل کے معنی دیتا ہے۔اس وجہ سے مذکر و مؤنث میں کوئی فرق نہیں۔اَلْوَدُوْدُ فِی الْاَسْمَاءِ الْحُسْنٰی مَعَنَاہُ الْمُحِبُّ اَوِالْمَحْبُوْبُ مِنْ اَوْلِیَاءِ ٖہ فَیَکُوْنِ بِمَعْنٰی مَفْعُولٍ اور ودود اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے بھی ہے۔اور اس کے معنی محبت کرنے والے کے ہیں یا اولیاء اللہ کا محبوب ہونا اس سے مراد ہے۔اس صورت میں اس لفظ کے معنی فاعل کے نہیں بلکہ مفعول کے ہوں گے۔(اقرب) تفسیر۔توبہ کی حقیقت ہمیشہ دشمنانِ اسلام اسلام پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ اسلام توبہ کا دروازہ کھول کر گناہ کا راستہ کھولتا ہے(ستیارتھ پرکاش باب ۱۴ صفحہ ۶۶۹)۔توبہ کے معنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ منہ سے میری توبہ میری توبہ کہہ دیا اور بس اسی قدر گنہ کی معافی کے لئے کافی ہے۔حالانکہ اسلام کی یہ تعلیم نہیں۔اسلامی توبہ بالکل اور چیز ہے۔اسلام نے بدی سے نیکی کی طرف آنے اور نیکی سے اعلیٰ مقامات کی طرف جانے کو صرف ایک مقام نہیں قرار دیا بلکہ اسلام بتاتا ہے کہ یہ دونوں کام کئی مدارج طے کرنے کے بعد پورے ہوتے ہیں۔ایک گنہ گار جب