تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 25
ارض الارضکرۂ زمین۔کُلُّ مَاسَفَلَ ہر نیچے کی چیز۔(اقرب) یوم ایَّامٌ یوم کی جمع ہے۔اَلْیَوْمُ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ اِلَی غُرُوْبِ الشَّمْسِ۔دن کا وقت اَلْوَقْتُ مُطْلَقًا۔مطلق وقت جو بھی اور جتنا بھی ہو۔(اقرب) اسْتَوٰی اِسْتَویاِعْتَدَلَ۔اعتدال اختیار کیا۔الطَعامُ: نَضَجَ پک کر تیار ہو گیا۔العودُ من اعوجاجٍ : اِسْتَقَامکجی دور ہوکر سیدھا اور درست ہو گیا۔الرجل: اِنْتَھی شَبَابَہٗ وَبَلَغَ اَشُدَّہُ أوْ اَرْبَعِیْنَ سَنَۃً وَاسْتَقَامَ اَمْرَہٗ نشوونما کے کمال کو پہنچ گیا۔اپنی جسمانی ترقی کا کمال پالیا۔اس کے امور کو درستی حاصل ہو گئی۔علٰی ظھر دابۃ: استقرّ قرار پذیر ہو گیا۔متمکن ہو گیا۔علیہ: استولی وظَھَرَ استیلا اور غلبہ پالیا۔لہ والیہ: قَصَدَ متوجہ ہوا۔(اقرب) عرش عَرَشَ عَرْشًا: بَنٰی بِنَاءً مِنْ خَشَبٍ لکڑی کی عمارت بنائی۔اَلْبَیْتَ: بَنَاہُ تعمیر کیا۔اَلْکَرْمَ: رَفَعَ دَوَاِلَیْہُ عَلَی الْخَشَبِ۔بیل کو قرینے سے لگائی ہوئی لکڑیوں پر چڑھایا۔(اقرب) اَلْعَرْشُ سَرِیْرُ الْمَلِکِ اورنگ شاہی۔اَلْعِزُّ۔عزت و غلبہ۔قِوَامُ الْاَمْرِ معاملات اور امور کی درستی کا ذریعہ اور مدار۔رُکْنُ الشَّیْءِ سہارا۔مِنَ الْبَیْتِ :سَقْفُہُ چھت۔اَلْخَیْمَۃُ خیمہ۔اَلْبَیْتُ الَّذِیْ یُسْتَظَلُّ بِہٖ سایہ کا کام دینے والا گھر شِبْہُ بَیْتٍ مِنْ جَرِیْدٍ یُجْعَلُ فَوْقَہُ الثُّمامُ جھونپڑی۔(اقرب) تدبیر یُدَبِّرُتدبیر سے فعل مضارع ہے۔دبّرالاَمْرَ: نظر فی عاقبتہ وتفکر انجام اندیشی کی اور سوچا۔اعتنی بہ اس کی طرف توجہ دی اور اس کا اہتمام کیا۔رتّبہ ونظّمہ ترتیب دی۔الوالی اقطاعہ: اَحْسَنَ سیاستھا عمدہ نگرانی اور انتظام کیا۔الحدیث نقلہ عن غیرہ نقلًا بیان کیا۔علٰی ھلاکہ: احتال علیہ وسعٰی فیہ۔ہلاک کرنے کی کوشش کی۔(اقرب) امر اَلْاَمْرُ:طلب احداث شیء۔طلب انشاء شیء او فعلہ کسی چیز یا کسی کام کو وجود میں لانے یا کرنے کا مطالبہ کرنا۔الحال حالت۔الشان معاملہ، بات، الشیء چیز، بات۔(اقرب) اِذنُ اِذنٌمصدر ہے۔اَذِنَ بِہٖ: عَلِمَ جان لینا۔بہٖ ولَہٗ: اباح اجازت دی۔(اقرب) عبادۃ اعْبُدُوْافعل امر ہے۔اس کی مصدر عبادۃ، عبودۃ عبودیۃ ہے۔عَبَدَلہ تألہ تمام تر کوشش کے ساتھ پرستش میں لگ گیا۔عَبَدَاللّٰہَ طاع لہ وخَضَع وذَلَّ وخَدَمَہ والتزم شرائع دینہ ووحّدہ اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار بن گیا۔اپنے آپ کو اسی ایک کا بنا کر اس کے احکام کا پابند ہو گیا۔(اقرب)