تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 318

تفسیر۔حضرت لوط ؑ کی تکلیف کا باعث مہمانوں کا بن بلائے آجانا نہ تھا مطلب یہ ہے کہ جب وہ لوگ حضرت لوط ؑ کے پاس آئے تو انہیں ان سے بہت تکلیف ہوئی۔اور انہوں نے ان کے فعل سے مخلصی کی کوئی صورت نہ پائی۔یا انہیں مقصد میں کامیاب ہونے کے لئے بہت دقت پیش آئی۔مفسرین نے لکھا ہے کہ وہ اللہ کے رسول جن کا ذکر ہے جب حضرت لوط کے پاس مہمان آکر ٹھہرے اور باوجود حضرت لوط ؑ کے ٹلانے کے نہ ٹلے اور بن بلائے مہمان بنے رہے تو اس سے حضرت لوطؑ کے دل کو تکلیف ہوئی۔اور اسی تکلیف کا اس جگہ ذکر ہےمگر یہ بات غلط ہے۔اس واقعہ کی حقیقت بائیبل کی روشنی میں میرے نزدیک بائیبل میں جو واقعہ لکھا ہے وہ صحیح ہے اور اسی کی طرف اس جگہ اشارہ ہے اور وہ واقعہ یہ ہے کہ جب یہ لوگ حضرت لوط ؑ کی بستی کے پاس پہنچے تو حضرت لوطؑ نے ان لوگوں کو اپنے گھر چلنے کی دعوت دی۔انہوں نے اس سے انکار کیا۔غالباً اس امر سے ڈرے ہوں گے کہ انہیں تکلیف ہوگی۔مگر حضرت لوط ؑ نے اصرار کیا۔انہوں نے انکار پر اصرار کیا۔اس پر حضرت لوط کو تکلیف ہوئی۔اور اسی تکلیف کا اس جگہ ذکر ہے اور خدا کا اپنے نبی کی مہمان نوازی کی شان بتانا مقصود ہے۔نہ اس کے بخل اور بدخلقی کا اظہار۔(دیکھو پیدائش باب۱۹) وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ يُهْرَعُوْنَ اِلَيْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ اور اس کی قوم( غصہ سے) اس کی طرف بھاگتی کانپتی ہوئی اس کے پاس آئی اور (اس سے) پہلے (بھی) وہ( لوگ السَّيِّاٰتِ١ؕ قَالَ يٰقَوْمِ هٰؤُلَآءِ بَنَاتِيْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ نہایت خطرناک) بدیاں کیا کرتے تھے۔اس نے کہا اے میری قوم یہ میری بیٹیاں (تمہارے ہی گھروں میں بیاہی فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِيْ ضَيْفِيْ١ؕ اَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ ہوئی) ہیں وہ تمہارے( اور تمہاری آبرو کے) حق میں نہایت پاک( دل اور پاک خیال) ہیں۔پس تم اللہ کا