تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 317

يٰۤاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ (اس پر ہم نے اسے کہا) اے ابراہیم تو اس (دعا) سے اپنا رخ پھیر لے۔اب تو تیرے رب کا حکم یقیناً آچکا ہے اور وَ اِنَّهُمْ اٰتِيْهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُوْدٍ۰۰۷۷ ان کی یقیناً یہ حالت ہے کہ ان پر ہٹایا نہ جاسکنے والا عذاب آرہا ہے۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ کی محبت حضرت ابراہیم ؑسے اللہ تعالیٰ کی محبت حضرت ابراہیمؑ سے کتنی بڑھی ہوئی تھی۔انہیں یہ نہیں کہا کہ میں تیری بات نہیں سنتا۔بلکہ یہ فرمایا کہ اے ابراہیم! یہ سوال جانے ہی دو۔تمہارے رب کا حکم آ گیا ہے۔اور یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ ان پر عذاب آئے گا۔اس لئے اصرار نہ کرو۔وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِيْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ اور جب ہمارے فرستادے لوط کے پاس آئے تو ان کی وجہ سے اسے غم ہوا اور وہ بے بس ہو گیا ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ۰۰۷۸ اور کہا یہ دن (بہت) سخت (چڑھا) ہے۔حلّ لُغَات۔سَاءَ ہٗ۔سَاءَہٗ فَعَلَ بِہٖ مَایَکْرَھُہٗ۔اَوْ اَحْزَنَہٗ۔اس سے ایسا سلوک کیا جو اسے ناپسند ہے۔یا یہ کہ اسے غمگین کیا۔سِیْٓءَ بِہِ فُعِلَ بِہٖ الْمَکْرُوْہُ اس سے ناپسند معاملہ کیا گیا۔(اقرب) ضَاقَ بِہٖ ذَرْعًا۔ضَعُفَتْ طَاقَتُہٗ وَلَمْ یَجِدْ مِنَ الْمَکْرُوْہِ فِیْہِ مَخْلَصًا اس کی طاقت کمزور ثابت ہوئی اور ناپسندیدہ بات سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہ ملا۔وَاَصْلُ الذَّرْعِ بَسْطُ الْیَدِ فَکَاَنَّکَ تُرِیْدُ مَدَدْتُ یَدَیَّ اِلَیْہِ فَلَمْ تَنَلْہُ اور ذَرْعٌ کے اصل معنی ہاتھ پھیلانے یا بڑھانے کے ہیں اور مراد یہ ہے کہ میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔مگر میں اسے پکڑ نہ سکا وَاَرَادَ بِالذِّرَاعِ فِی قَوْلِہٖ ع ’’وَلٰکِنْ کَانَ اَرْحَبَھُمْ ذِرَاعًا‘‘۔اَلنَّفْسُ۔اور مذکورہ بالا مصراع میں ذراع سے مراد نفس ہے۔(اقرب) یَوْمٌ عَصِیْبٌ شَدِیْدٌ الْحَرِّ اَوْ شَدِیْدٌ۔یَوْمٌ عَصِیْبٌ کے معنی سخت گرم دن کے یا سخت دن کے ہیں۔(اقرب)