تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 24

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ تمہارا رب یقیناً اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ وقتوں میں پیدا کیا اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ پھر عرش پرقرار فرما ہوا۔وہ ہر امر کا انتظام کرتا ہے (اس کے حضور میں) کوئی بھی( کسی کا) شفیع شَفِيْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ نہیں (ہوسکتا) مگر ہاں اس کی اجازت کے بعد۔وہ( مذکورہ بالا صفات والا) ہے(اور وہی ہے) تمہارا رب اس اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۰۰۴ لئے تم اس کی عبادت کرو۔کیا تم پھر( بھی باوجود ان باتوں کے) نصیحت حاصل نہیں کرو گے۔حلّ لُغات۔رَبٌّ اَلرَّبُّمالک، آقا یا مُطَاع مستحق یا صَاحِبُ الشی ءِ یعنی کسی چیز والا۔رَبَّ الشَّیْءَ۔جَمَعَہٗ اس چیز کو جمع کیا مَلَکَہٗ اس کا مالک ہوا۔اَلْقَوْمَ سَاسَھُمْ وَکَانَ فَوْقَھُمْ قوم پر حکومت اور سیاست کی۔النِّعْمَۃَ : زَادَھا نعمت کو بڑھایا۔اَلْاَمْرَ: اَصْلَحَہٗ وَاَتَمَّہٗ کام کو درست اور مکمل کیا۔الدُّھْنَ: طَیَّبَہٗ واَجَادَہٗ۔تیل میں عمدگی اور خوبی پیدا کی۔الصَّبِیَّ: رَبَّاہُ حَتّٰی اَدْرَکَ بچہ کی تربیت کی حتیٰ کہ وہ اپنے کمال کو پہنچ گیا۔(اقرب) اَللّٰہُ اللہُ اِسْمٌ بَارِیءُ الْوَجُوْدِ (اقرب) تمام موجودات کو ہستی بخشنے والی ذات کا نام۔خَلَقَ خَلَقَ الْاَدِیْمَ: قَدَّرَہٗ قَبْلَ اَنْ یَّقْطَعَہٗ۔کھال کو کاٹنے سے پہلے اس کی اس شکل کا اندازہ کیا جس کے مطابق اسے کاٹنے کاا رادہ ہے۔الْشَّیْءَ: اَوْجَدَہٗ وَاَبْدَعَہٗ عَلٰی غَیْرِ مَثَالٍ سَبَقَ پیدا کیا۔عدم سے وجود بخشا۔ایجاد کیا۔اختراع کیا۔الْاِفْکَ: اِفْتَرَاہُ اپنے پاس سے بات گھڑ لی۔اَلْکَلَامَ وَغَیْرَہٗ: صَنَعَہٗ تیار کیا۔لِشَیْءَ: مَلَّسَہٗ وَلَیَّنَہٗ ہموار اور صاف کیا۔الْعُوْدَ: سَوَّاہُ درست اور ہموار کیا۔(اقرب) سَمَاءٌ السَّمٰوٰتُ۔سَمَائٌ کی جمع ہے۔اَلسَّمَآءُ۔آسمان۔کُلُّ مَاعَلَاکَ فَاَظَلَّکَ۔ہر اوپر سے سایہ ڈالنے والی چیز۔سَقْفُ کُلُّ شَیْءٍ وَبَیْتٍ چھت رَوَاقُ الْبَیْتِ برآمدہ۔ظَھْرُالْفَرَسِ گھوڑے کی پیٹھ۔اَلسَّحَابُ۔بادل۔اَلْمَطَرُ بارش۔اَلْمَطَرَۃُ الْجَیِّدَۃُ ایک دفعہ کی برسی ہوئی عمدہ بارش۔اَلْعُشْبُ سبزہ و گیاہ۔(اقرب)