تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 307
لوگوں میں ہر قسم کی تہذیب تھی۔اور قوانین کے علاوہ فیصلہ جات بھی لکھے جاتے تھے۔تاکہ آئندہ لوگوں کے لئے سند ہوں۔جیسا کہ آج کل کی انگریزی عدالتوں کے فیصلوں کی رپورٹیں شائع ہوتی ہیں۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ قوم جس کا ذکر کتبہ میں ہے حضرت صالح علیہ السلام سے پہلے ہوئی ہے یا بعد میں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ حضرت ہود کی امت میں سے ایک حصہ جنوبی عرب میں بھی رہ گیا ہو۔بہرحال یہ ثابت ہے کہ یہ قوم ثمود میں سے تھی اور ان کی طرف یا ان کے ان بھائیوں کی طرف جو ہجرت کرکے شمال کو چلے گئے تھے صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔یہ قوم میدانوں اور پہاڑوں پر بھی حکومت رکھتی تھی قرآن کریم کی عبارت تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُيُوْتًا۔(الاعراف:۷۵) سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ میدانوں اور پہاڑوں دونوں پر اس قوم (ثمود) کی حکومت تھی۔اسی طرح فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ۔وَّ زُرُوْعٍ وَّ نَخْلٍ طَلْعُهَا هَضِيْمٌ۔(الشعراء :۱۴۸۔۱۴۹) سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ملک چشموں والا اور باغات والا تھا۔وہاں کھجوریں بھی اچھی قسم کی ہوتی تھیں اور زراعت بھی ہوتی تھی۔غرض یہ کتبہ جس کا مضمون اوپر بیان ہوا حرف بہ حرف قرآن کریم کا مصدق ہے۔یہ قوم اسلام سے پہلے بکلی مٹ چکی تھی حضرت صالح کے بعد جلدی ہی یہ قوم گرنے لگ گئی۔کیونکہ اس کے زمانہ کے چند صدیوں بعد کے فاتح قوموں میں اس کا ذکر مفقود ہے۔سرجون یا شرغون نامی اسیریا کے ایک بادشاہ نے جس کا زمانہ حکومت ۷۲۲ قبل مسیح سے ۷۰۵ قبل مسیح تک تھا عرب پر فوج کشی کی تھی۔اس کی فتوحات میں ثمود کا نام آتا ہے اور اس نے اس کا ذکر ایک کتبہ میں کیا ہے۔جو اس نے ایک فتح کی یادگار میں کندہ کرایا تھا۔مورخین یونان میں ڈائدورس جو ۸۰ قبل مسیح ؑ گزرا ہے۔پلینی جو ۷۹ قبل مسیح گزرا ہے اور بطلیموس جو ۱۴۰ قبل مسیح گزرا ہے تینوں نے اس قوم کا ذکر کیا ہے۔جسٹینین بادشاہ روم نے جب عرب پر حملہ کیا ہے تو اس کی فوج میں تین سو ثمودی سپاہی بھی تھے لیکن اسلام سے پہلے اس قوم کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔(ارض القرآن صفحہ ۱۹۸) وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ اور ہمارے فرستادے یقیناً یقیناً ابراہیم کے پاس خوشخبری لائے (اور) کہا( ہماری طرف سے آپ کو) سلام ہو۔اس نے قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ۰۰۷۰ کہا(تمہارے لئے ہمیشہ )سلامتی ہو۔پھر( اس نے) ایک بھنے ہوئے بچھڑے کے لانے میں (کچھ بھی) دیر نہ لگائی۔حلّ لُغَات۔لَبِثَ لَبِثَ یُقَالُ مَالَبِثَ اَنْ فَعَلَ کَذَا۔یعنی مَالَبِثَ کے معنی ہوتے ہیں بغیر دیر