تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 306
ہیں) اس کے بعد اس کا کوئی نشان نہیں ملا(ارض القرآن جلد اول صفحہ ۱۸۳)۔اب اس زمانے (۱۸۳۴ء) میں ایک انگریز مستشرق (WELLESTED) نے پھر اس کا پتہ لگایا ہے اور وہ ایشاٹک سوسائٹی جرنل میں چھپ چکا ہے۔اور فارسٹر نے (جو ایک انگریز مستشرق ہے۔) اپنی کتاب میں اسے نقل کیا ہے۔اصل کتبہ حمیری زبان میں ہے۔جو اصل میں جنوبی عربی زبان ہے۔موجودہ مستشرقین نے اس کا نام حمیری رکھ لیا ہے۔یہ کتبہ حصن غراب میں جو عدن کے قریب ہے ملا ہے۔اس کتبہ کی عبارت کا ترجمہ اس کتبہ کی عبارت کا ترجمہ یہ ہے۔(۱) ہم مدت تک اس وسیع قصر میں رہے۔ہماری حالت بدنصیبی اور ادبار سے دور تھی۔ہماری نہروں میں (۲) دریا کا پانی امڈ آتا تھا۔سمندر موجیں مارتا ہوا ہمارے قلعہ کی دیواروں سے غضبناک ہوکر ٹکراتا تھا۔ہمارے چشمے خوش آئند آواز سے بہتے تھے۔(۳) بلند کھجوروں کے اوپر جن کے باغبان خشک چھوہارے ہماری وادیوں کے چھوہاروں کی زمینوں میں لگاتے تھے اور خشک چاول بوتے تھے۔(۴) ہم پہاڑی بکروں کا اور جوان خرگوشوں کا شکار پنجروں اور جالوں سے کرتے تھے اور مچھلیوں کو (۵) بہلا بہلا کر باہر نکال لیتے تھے۔اور ہم آہستہ آہستہ خرامان خراماں رنگ برنگ کے ریشم کے کپڑے اور لاہی سبز مختلف الالوان جامے پہن کر چلا کرتے تھے۔اور ہم پر وہ بادشاہ حکومت کرتے تھے جو کمینہ خیالات سے بہت دور اور شریروں کو سزا دینے والے تھے۔ہود کی شریعت کے مطابق۔(۶)اچھے فیصلے ایک کتاب میں لکھے جاتے تھے۔اور ہم معجزات کا یقین رکھتے تھے۔قیامت کے روز اور نتھنوں کے راز پر ایمان تھا۔(۷)راہزن گھس آئے اور وہ ہمارے ساتھ کچھ جھگڑا کرتے تھے۔مگر ہم نے اپنے گھوڑوں کو پویہ ڈال دیا۔اور ہمارے شریف نوجوان سخت اور نوکدار نیزوں کو لے کر آگے بڑھے۔(۸)ہمارے خاندان کے مغرور بہادر مرد اور عورتیں گھوڑوں پر لڑ رہی تھیں جن کی گردنیں لمبی تھیں۔اور جو چمکدار کمیت رنگ کے تھے۔(۹)ہماری تلواریں بدستور دشمنوں کوز خمی کررہی تھیں اور چھید رہی تھیں۔یہاں تک کہ ان کے قلب پر حملہ کرکے ان کو مغلوب اور بالکل پست کر دیا۔جو بدترین نوع انسان میں سے تھے۔اس کتبہ کی عبارت سے ثمود کے کیا حالات ثابت ہوتے ہیں اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان