تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 23

پس ان کا موجودہ نظام توڑ کر ہی کام چل سکے گا۔ایک اور موجب تعجب تیسری بات قابل تعجب ان کے لئے یہ تھی کہ وَ بَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ میرے کہنے پر چل کر جو لوگ اس نظام کو بدلا لیں گے وہ ترقی کر جائیں گے۔حالانکہ ان کے نزدیک اول تو وہ لوگ بہترین دماغ کے نہ تھے۔بلکہ ادنیٰ درجہ کے تھے۔دوم وہ لوگ قوم کی مخالفت پر کھڑے تھے۔سوم ناممکن بات کو ممکن بنادینے کا دعویٰ کرتے تھے۔چونکہ کوئی قوم اسی وقت ترقی کرسکتی ہے کہ اس کے کام کرنے والے لوگ بہترین دماغ کے ہوں۔اس کا آپس میں اتحاد ہو۔اور وہ ایسے مقاصد کے لئے کھڑی ہو جن کا حاصل کرنا ممکن ہو۔اور مسلمانوں کو وہ ان سب باتوں سے محروم سمجھتے تھے۔اس لئے تعجب کرتے تھے کہ یہ کس طرح کامیاب ہو جائیں گے۔یہ کیونکر پہلے نظام کو توڑ دیں گے۔اور اس کی جگہ ایک اور نظام ایسا قائم کریں گے جو ظاہر اور باطن طور پر اچھا ہوگا۔جس سے یہ بادشاہ بن جائیں گے اور روحانی طور پر ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہوجائے گا۔عِنْدَرَبِّھِمْ اس لئے فرمایا کہ روحانی اور جسمانی دونوں ترقیاں ضروری ہوتی ہیں۔پس اس ہستی کی طرف نسبت دے کر جس کے قبضہ میں یہ دونوں ترقیاں ہیں کامل کامیابی کی طرف اشارہ کر دیا۔اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ۔کفار نے اوپر کی بات کو سن کر کہا کہ یہ شخص باتیں خوب بناتا ہے۔حتیٰ کہ جھوٹ کو سچ کر دکھاتا ہے۔اور انسانی فطرت کو اپیل کرکے جو ڈرنے والے ہیں ان کو ڈرا کر جو لالچی ہیں انہیں لالچ دلا کر اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ہے۔یہی اعتراض آج کل مسیحی مصنف کرتے ہیں۔اور کہتے ہیں کہ عرب کے جاہلوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوف دلا کر یا لالچ دلا کر اپنے ساتھ ملا لیا۔حالانکہ کفار کا اعتراض بتاتا ہے کہ یہ نکتہ ان عرب کے جاہلوں کو بھی معلوم تھا پھر وہ کس طرح دھوکہ میں آگئے۔حق یہ ہے کہ تَشَابَھَتْ قُلُوْبُھُمْ دونو کے دل مل گئے ہیں۔ورنہ وہ کون سا مذہب ہوگا جو یہ کہے کہ جو مجھے مانے گا دوزخ میں جائے گا اور جو نہ مانے گا جنت حاصل کرے گا۔اگر سچائی کے ماننے کے انعامات کا ذکر لالچ ہے تو کوئی سچائی بغیر لالچ کے نہیں ہوسکتی۔یہ لوگ حضرت مسیح ؑ کے متعلق کیا کہیں گے جنہوں نے جنت کی کنجیوں کا وعدہ پطرس کو دیا اور اعلان کیا کہ ہر ایک کو جو اس کی تعلیم پر نہیں چلتا وہ خدا کی بادشاہت سے محروم رہے گا اور ماننے والوں کے لئے انعامات کے وعدے کئے۔(متی ب۱۶، ب۱۸، ب۱۹)