تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 293
وَ اُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ اور اس دنیا میں (بھی) لعنت ان کے پیچھے لگا دی گئی ہےاور قیامت کے دن( بھی لگا دی جائے گی) سنو !عاد نے عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍؒ۰۰۶۱ یقیناً اپنے رب (کے احسانوں) کی ناشکری کی تھی سنو !عاد یعنی قوم ہود کے لئے (قرب الٰہی سے) دوری ہے۔حل لغات۔بُعْدًا اَلْبُعْدُ ضِدُّ الْقُرْبِ۔دوری۔اللَّعْنُ۔لعنت خدا کے قرب سے محرومی۔(اقرب) تفسیر۔لعنت کے معنی جب لعنت کا فعل بندوں کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی لعنت کرنے کے ہوتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو اس کے معنی دور کردینے کے ہوتے ہیں۔پس مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ دیدار الٰہی سے محروم رہیں گے اور خدائےتعالیٰ کا قرب نہیں پائیں گے۔اَلَا حرف تنبیہ کے لانے کی وجہ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ۔یہ جملہ نہایت ہی دلکش ہے اَ لَا تنبیہ کے لئے آتا ہے۔پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ سنو !سنو! عاد نے اپنے رب کا انکار کر دیا۔یعنی یہ کس قدر اندھیر کی بات ہے کہ عاد نے اپنے پرورش کرنے والے کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔حالانکہ اپنے محسن کی بات کی شریف لوگ قدر کیا کرتے ہیں۔رب کے معنی ہیں پیدا کرکے پھر ادنیٰ حالت سے ترقی دے کر کمال تک پہنچانے والا۔پس اس امر پر اظہار افسوس کیا ہے کہ جس نے ان کو اس اعلیٰ مقام پر پہنچایا تھا شان و شوکت کے حصول کے بعد اسی کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔جو ایک طرف تو ناشکری کا فعل ہے اور دوسری طرف بے وقوفی پر دلالت کرتا ہے۔کیونکہ جس نے بڑھایا ہے گرا بھی سکتا ہے۔چنانچہ کان کھول کر سن لو! کہ آخر عاد سے یہی معاملہ ہوا۔ہود ؑ کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے وہ تباہ و برباد کردیئے گئے۔وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ اور ثمود کی طرف( ہم نے) ان کے بھائی صالح کو (بھیجا تھا) اس نے (انہیں) کہا اے میری قوم تم اللہ( تعالیٰ) کی مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی بھی معبود نہیں ہے اسی نے تمہیں زمین سے اٹھایا (اور بلندی بخشی) اور اس میں