تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 22
چنانچہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو پالا۔اگر ابوطالب کا کوئی بیٹا رہ جاتا اور عبداللہ زندہ ہوتے تو وہ ان کے گھر پلتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والد عبداللہ بھی غریب تھے اور صرف غربت کا اظہار ان کی طرف آپ کو منسوب کرکے بھی ہوسکتا تھا۔مگر انہوں نے ابوطالب کا یتیم کہہ کر اس امر کا اظہار کرنا چاہا کہ یہ شخص دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والا ہمیں بادشاہت کے وعدے دلاتا ہے۔تفسیر۔کفّار کے تعجب کا ایک باعث کفار کو اس پر تعجب تھا کہ انہی میں سے ایک آدمی پر کس طرح وحی آگئی۔گری ہوئی قوموں میں یہ احساس ہمیشہ ہی ہوا کرتا ہے کہ ہم میں سے بڑے آدمی نہیں پیدا ہوسکتے۔گویا کفار اپنی حالت سے ایسے مایوس ہوگئے تھے کہ وہ یقین ہی نہیں کرسکتے تھے کہ ان کا علاج ان کے اندر موجود ہے۔ان کا خیال تھا کہ ان کو بڑھانے اور ترقی دینے اور ان کا علاج کرنے کے لئے باہر سے کسی کو آنا چاہیے۔یہی حال آج کل بہت سے مسلمانوں کا ہے۔وہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ ہی آسمان سے آکر ہمیں ذلت اور ادبار سے نکالیں گے۔ہم میں سے ایسا شخص نہیں پیدا ہوسکتا جو ہمارا علاج کرے۔اس امر میں انہیں پہلی قوموں سے کس قدر موافقت حاصل ہے وہی مایوسی ہے اور وہی طریقِ علاج! وہ لوگ جو قومی ترقی کے لئے یا تو امنگ ہی نہ رکھتے تھے یا یہ سمجھتے تھے کہ خارجی علاج کے بغیر کچھ نہیں بن سکتا جب ان میں سے ان کے بھائی نے دعویٰ کیا کہ میں ہی تمہارا علاج کروں گا اور ترقی کی طرف لے جاؤں گا تو ان کی حیرت کی حد نہ رہی۔وہ حیران ہو گئے۔کہ جو بات ناممکن تھی اسے ممکن کرنے کا اس نے کیونکر دعویٰ کر لیا؟ دوسرا باعث دوسری بات جو ان کے لئے حیرت انگیز بن گئی یہ تھی کہ اس مدعی کا دعویٰ ہے کہ مجھے لوگوں کو ہوشیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔یعنی بعض پرانی باتوں کو چھوڑ دو اور بعض نئی باتوں کو اختیار کرو۔ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ یہ بات قابل تعجب ہوا کرتی ہے کہ رسول کہتے ہیں کہ موجودہ نظام کو توڑ دو۔اور نیا نظام اختیار کرو؟ کفار کی یہ دونوں باتیں متضاد ہیں۔ایک طرف تو ان میں اتنی مایوسی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے علاج کے لئے ہم میں سے کوئی نہیں آسکتا اور دوسری طرف وہ اس بات پر لڑتے ہیں کہ ہمارا نظام کیوں بدلتے ہو؟ یہ گری ہوئی قوموں کی حالت ہوتی ہے۔وہ چاہتی ہیں کہ نہ کچھ چھوڑنا پڑے اور نہ کچھ کرنا پڑے۔ایک شخص باہر سے آکر ان کے موجودہ نظام کو قائم رکھتے ہوئے انہیں ترقی کی طرف لے جائے۔انہیں نہ تعلیم حاصل کرنی پڑے نہ محنت و مشقت کرنی پڑے نہ بری باتوں کو چھوڑنا پڑے۔بلکہ ایک شخص باہر سے آئے اور دوسروں کو مار دے اور سب کچھ انہیں حاصل ہو جائے۔وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ اگر ان کا پہلا نظام درست ہوتا تو ذلت اور ادبار میں وہ پڑتے ہی کیوں؟