تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 272

چاہیےاور سوال نہیں کرنا چاہیے اور اس میں کیا شک ہے کہ بعض امور کے متعلق سوال کرنا مشکلات پیدا کردیتا ہے۔ان کے متعلق خود ہی اجتہاد کرلینا سوال کرنے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔اس جگہ ایک اور بھی سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وعدہ تو خدا تعالیٰ کا کوئی بیان نہیں ہوا بلکہ الہام الٰہی میں صرف حکم بیان ہوا ہے کہ فلاں قسم کے لوگوں کو کشتی میں بٹھالے۔اب اگر کسی شخص نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو نہیں مانا اور کشتی میں سوار نہیں ہوا تو وہ نافرمان بن گیا۔خدا تعالیٰ پر وعدہ خلافی کا الزام کس طرح لگ سکتا تھا۔اور جب خدا تعالیٰ پر وعدہ خلافی کا کوئی الزام نہیں لگ سکتا تھا تو پھر حضرت نوح علیہ السلام کے اس قول کا کیا مطلب ہوا کہ اِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ وعدہ ضرور تھا گو جو الفاظ قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں وہ حکم کے رنگ میں ہیں اور یہ بات ظاہر ہے کہ بعض دفعہ حکم بھی وعدہ کا رنگ رکھتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ فلاں فلاں کو کشتی میں بٹھالیجئیو تو اس کے یہ معنی تھے کہ میں ان کو بچاؤں گا۔اور یہ امر کہ یہ وعدہ تھا اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں ایک استثناء فرمایا ہے کہ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ (ہود:۴۱) لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ لوگ جن کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے کون لوگ ہیں۔اب اگر اس عبارت میں حکم ہوتا وعدہ نہ ہوتا تو ضروری تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام کو بتایا جاتا کہ یہ کون لوگ ہیں کہ جن کے متعلق فیصلہ ہوچکا ہے۔تاکہ حضرت نوح ؑ ان کو کشتی میں نہ بٹھائیں۔مگر انہیں ان کے ناموں یا ان کے افعال سے بالکل واقف نہیں کیا گیا اور یہی وجہ ہوئی کہ حضرت نوح ؑ کے بیٹے نے جب کشتی میں سوار ہونے سے انکار کیا تو حضرت نوح علیہ السلام کو تعجب ہوا۔پس جب اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے نام جن کو نہیں بٹھانا تھا ظاہر نہیں کئے تو صاف ظاہر ہے کہ حکم کے الفاظ میں یہ ایک وعدہ تھا اور چونکہ اس کا ایفاء اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھا اس لئے ان لوگوں کے نام جو اس وعدہ سے مستثنیٰ تھے اس نے ظاہر کرنے پسند نہ کئے۔دوسری دلیل وعدہ کی موجودگی کی یہ ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا کہ میں نے کب کسی کے بچانے کا وعدہ کیا تھا۔میں نے تو صرف حکم دیا تھا کہ گھر کے لوگوں اور مومنوں کو کشتی میں بٹھا لیجیئو۔اب اگر ان میں سے کوئی کشتی میں نہیں بیٹھا تو یہ اس کا قصور ہے بلکہ اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام کے اس سوال کو کہ تیرا وعدہ تو اہل کے بچانے کا تھا قبول کرلیتا ہے اور یہ جواب دیتا ہے کہ وعدہ اہل کے متعلق تھا اور یہ لڑکا حقیقتاً تیرا اہل نہیں ہے۔اس امر پر روشنی ڈالنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کہ بعض نادان لوگ پیشگوئیوں کے سمجھنے میں اجتہادی غلطی کے لگنے کے منکر ہیں اور جب انہیں قرآن کریم کی یہ آیات بتلائی جاتی ہیں تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اس جگہ