تفسیر کبیر (جلد ۴)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 637

تفسیر کبیر (جلد ۴) — Page 271

ایسے ہی امور میں سے تھا جن کا انجام معلوم نہیں تھا۔بالکل ممکن تھا بلکہ غالباً یہی واقع تھا کہ اگر وہ بچ جاتا تو اس کے ذریعہ سے دین کو نقصان پہنچتا اور وہ مذہب کو طاقت پہنچانے کی بجائے اس کی کمزوری کا موجب ہوجاتا۔پس اس کا فنا ہونا ہی بہتر اور مناسب تھا۔سوال صرف ایسے کرنے چاہئیں جو زیادۃِعلم کا موجب ہوں اور اگر سوال کے معنی دعا مانگنے کی جگہ دریافت کرنے کے کئے جائیں تو اس صورت میں اس آیت کے یہ معنی ہیں کہ سوال صرف ایسے امور کے متعلق کرنا چاہیےجن کے جواب سے علم میں زیادتی ہو۔اور انسان کے لئے اس کی حقیقت کو سمجھنا ممکن ہو۔مگر وہ باریک حکمتیں جن پر قانون قدرت کا مدار ہے اور جو صرف ایک دو واقعات پر مبنی نہیں ہوتیں بلکہ لاکھوں کروڑوں امور جن میں سے بعض لاکھوں سال پہلے کے ہوتے ہیں اور بعض آئندہ ظاہر ہونے والے ہوتے ہیں ان پر ان کی بنیاد ہوتی ہے ان کے متعلق سوال فضول ہے کیونکہ ان کا پورے طور پر سمجھنا انسانی طاقت سے بالا ہوتا ہے کیونکہ ان کے سمجھنے کی انسان کو قابلیت ہی نہیں دی گئی۔مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ سے مراد اس صورت میںیہی ہے کہ جن کے سمجھنے کی تجھے طاقت نہیں دی گئی ان کے متعلق سوال نہ کر یا یہ کہ جن امور کو تیرے دائرہ علم سے باہر رکھا گیا ہے ان کے متعلق سوال نہ کر۔عدم علم اس جگہ مراد نہیں کیونکہ سوال تو کیا ہی اس وقت جاتا ہے کہ جب انسان کو علم نہ ہو۔جس امر کا علم ہو اس کے متعلق اسے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔پس علم نہ ہونے سے مراد اس جگہ علم کے احاطہ سے باہر ہونے کے ہیں اور اس میں کیا شک ہے کہ جن امور کی حقیقت کو انسان نہ سمجھ سکتا ہو یا جن کی تفصیل کا اظہار نامناسب ہو ان کے متعلق سوال نہیں کرنا چاہیے۔حضرت نوح اپنے بیٹے کے اعمال سے بے خبر تھے اللہ تعالیٰ کے اس جواب سے کہ ان کے بیٹے کے اعمال اچھے نہ تھے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی نظر سے اس کے اعمال پوشیدہ تھے۔اس سوال سے حضرت نوح کوکیوں روکا گیا اور نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح ؑ کو جو سوال سے روکا گیا ہے تو اسی وجہ سے کہ اس طرح ان کے بیٹے کی پردہ دری ہوتی تھی اگر ان کے سوال کا صحیح جواب دیا جاتا تو تفصیلاً اس کے عیوب بیان کرنے پڑتے جو اللہ تعالیٰ کی ستاری کے خلاف تھا اس لئے ایک مختصر جواب دیا کہ اس کے اعمال اچھے نہ تھے اور مزید سوالات سے روک دیا تاکہ اور زیادہ غیب سے پردہ نہ اٹھانا پڑے۔اس امر سے اللہ تعالیٰ کے رحم اور اس کی ستاری کا ایک نہایت دلکش جلوہ نظر آتا ہے۔ایک طرف غرق کا حکم ہے۔دوسری طرف پردہ پوشی بھی ہورہی ہے۔ان معنوں کے رو سے ’’جاہل نہ بن‘‘ کے یہ معنی ہوں گے کہ ایسے امور کو خود ہی سمجھ لینا